(گزشتہ سے پیوستہ)
پالیسی سازاب یہ بات شدت سے محسوس کر ر ہے ہیں کہ ٹرمپ کے آنے کے بعدسے امریکا کی سب سے بڑی طاقت والی حیثیت متاثرہوئی ہے۔ جو کچھ وہ کہتے رہے ہیں اس کے وہ اثرات رونما نہیں ہوئے جو ہونے چاہیے تھے۔اب امریکیوں کواچھی طرح اندازہ ہوچکاہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے عالمی سطح پرامریکاکی پوزیشن قابل ذکر حد تک متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتی۔امریکی پالیسی سازیہ دعویٰ بھی کرتے ہیں جس سے بڑی حدتک واضح اختلاف کیاجاسکتاہے کہ امریکا نے چارنسلوں تک دنیاکو ایک ایسا نظام دیاہے جس نے امن،خوش حالی، استحکام اورجمہوریت کی راہ ہموارکی ہے۔یہ بات دیگرنظام ہائے سیاست سے موازنے کی صورت میں کہی جارہی ہے۔ امریکانے عالمی سیاست ومعیشت پرجوبالادستی پائی وہ اس کی سخت قوت کانتیجہ تھی۔امریکاکے پاس بے مثال قوت تھی اوراس قوت کوبھرپوراندازسے بروئے لانے پربھی خاطرخواہ توجہ دی گئی۔
سابق امریکی وزیرخارجہ جارج شلزنے ایک بارکہاتھاکہ امریکانے زیادہ مستحکم تعلقات ان ممالک سے استواررکھے ہیں جہاں ایسی جمہوریت کی جڑیں گہری اورمضبوط ہیں جوامریکی اوراس کے اتحادیوں کی پالیسیوں سے مکمل آہنگی اوریکجہتی کا اظہارکریں۔یہ محض اتفاق نہیں،امریکاجن ممالک میں حقیقی جمہوریت اور سیکولرلبرل روایات دیکھناچاہتاہے ان کی طرف زیادہ جھکتاہے۔امریکی قیادت انہی ممالک سے بہترسیاسی اورمعاشی روابط کو فروغ دینے پرآمادگی ظاہرکرتی ہے جہاں کی سیاسی روایات امریکی اوراس کے اتحادیوں کی سیاسی روایات سے ہم آہنگ ہوں۔معاملات محض لین دین کی سطح سے کہیں بلندہوکر ورلڈآرڈرکے حقیقی نظریہ اورثقافتی ہم آہنگی مفادات تک تابع ہوں۔
ایسانہیں ہے کہ امریکانے صرف سخت قوت (معاشی وعسکری)پرمداررکھاہے۔وہ اپنی بات منوانے کے لئے اوراپنی نمبرون پوزیشن برقراررکھنے کے لئے دنیابھرمیں سوفٹ امیج بھی پھیلاتا ہے ۔امریکیوں نے ہردورمیں چاہاہے کہ دنیاان کے ملک کودیکھ کر صرف خوفزدہ نہ ہوبلکہ متاثرہوکرمتوجہ بھی ہو۔آج دنیابھرمیں امریکا کو سخت ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھاجاتا ہے مگراس کے باوجوددنیاکے ہرملک کے باشندے چاہتے ہیں کہ انہیں کسی نہ کسی طور امریکامیں داخل ہونے کاموقع مل جائے۔جن ممالک سے امریکاکے تعلقات اچھے نہیں اور جہاں کے لوگ امریکاسے شدید نفرت کرتے ہیں وہاں بھی لوگ اس بات کے منتظررہتے ہیں کہ امریکی ویزالگ جائے یعنی مجموعی طورپرکہاجاسکتاہے کہ امریکاکی سخت قوت کو تقویت بہم پہنچانے میںنرم قوت نے بھی کلیدی کرداراداکیاہے۔ ناپسندیدہ ہوتے ہوئے بھی امریکامیں دنیابھرکے لوگوں کے لئے غیرمعمولی کشش پائی جاتی ہے لیکن صدافسوس کہ ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی نے امریکاکے برسوں سے قائم اس تاثرکوبری طرح نہ صرف مجروح کیابلکہ خودامریکی اعلیٰ عدالت نے مداخلت کرکے ٹرمپ کی اس پالیسی کو مسترد کر دیاتھا۔
اب تک ٹرمپ نے جوکچھ کہاہے وہ اس امرکاغمازہے کہ وہ بنانے پرکم اور بگاڑنے پرزیادہ توجہ دیتے ہیں۔(ڈین ایچی سن کے لئے یہ بات بہت اہم تھی کہ وہ امریکاکی تخلیق کے وقت تھے)۔خودامریکی اورمغربی سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کی بڑھکیں دیکھتے ہوئے یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ انہیں شاید کل کویہ بات قابل فخرمحسوس ہوکہ وہ امریکاکی تباہی کے وقت موجود تھے۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسا بہت کچھ کہاجوبتاتاہے کہ انہیں بنیادی امریکی اقدارکی پاسداری کا ذرابھی خیال نہیں۔انہوں نے آزاد تجارت کے بجائے اپنے مفادات کوہرحال میں مقدم رکھنے کی تجارت پرزوردیا۔ ٹرمپ نے جمہوریت کے لئے اب تک ویسی پسندیدگی کااظہارنہیں کیاجیسی ان کے پیش روبیان کرتے آئے ہیں اورسب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے جمہوریت کے مقابل پوٹن کے لئے پسندیدگی کااظہارکیاجومطلق العنانیت کوبنیادی سیاسی قدرقراردے کرتمام اختیارات اپنی ذات میں سمیٹنا چاہتے ہیں۔
امریکانے پانچ چھ عشروں میں جوکچھ بھی پایاہے اسے ٹرمپ ٹھکانے لگاناچاہتے ہیں۔ان کاخیال ہے کہ امریکانے جنگ کے بعدکے زمانے میں جوخارجہ پالیسی اپنائی وہ بہت سے معاملات میں مخالفین کواس قدررعایتیں دیتی رہی ہیں کہ اب وہ منہ دینے کاسوچ رہے ہیں۔ امریکانے دوسری جنگ عظیم کے بعدکی دنیا میں عالمی معیشت کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش ضرورکی ہے مگراس کوشش میں اس نے اپنی مصنوعات اورٹیکنالوجی دنیابھر کودی ہے۔اس بات کو ٹرمپ جیسے لوگ پسندنہیں کرتے۔ان کاخیال یہ ہے کہ امریکاکو اپنی ٹیکنالوجیزاورجدید ترین مصنوعات ساری دنیا میں پھیلانے سے گریزکرناچاہیے۔
ٹرمپ نے امریکی فوج کو قیدیوں پرتشدد ڈھانے کی اجازت دیتے ہوئے یہ بھی کہاتھاکہ دہشت گردی ختم کرنے کی خاطراگرجنگی جرائم کاارتکاب بھی کرناپڑے توایساکرنے میں کچھ ہرج نہیں۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ امریکانے کسی نہ کسی طوراپنی بالادستی کوبرقراررکھاہے مگرٹرمپ تواسے ٹھکانے لگانے کے لئے بے تاب رہے۔ایسانہیں کہ جوکچھ ٹرمپ نے صدرکی حیثیت سے کہاوہ جذباتیت کی طرح پرتھا۔وہ ایک زمانے سے کئی امریکی شراکت داروں پرشدید نکتہ چینی کرتے آئے ہیں۔انہوں نے80کے عشرے میں جاپان اورکویت کوشدید نکتہ چینی کانشانہ بناتے ہوئے کہاتھا کہ ان دونوں ممالک سے امریکاکوملاکم ہے اور امریکا نے دیازیادہ ہے۔اسی طورانہوں نے2015ء اور 2016ء میں جرمنی اور میکسیکوپرشدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ ان دونوں ممالک نے امریکا کے لئے طفیلی کاکرداراداکیاہے۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے امریکا کے بعض شراکت داروں کے بارے میں جن خیالات کااظہارکیاوہ ان کے دوڈھائی عشروں کے خیالات ہی کاعکاس ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے صدر کی حیثیت سے امریکاکے بعض اتحادیوں اور اتحادیوں کے بارے میں جو کچھ کہاتھا،وہ محض بڑھک نہیں، جذباتیت کی سطح پرنہیں بلکہ وہ واقعی کچھ کرناچاہتے تھے، یعنی وہ امریکاکے بعض اتحادیوں کوایک طرف ہٹانے اورنئے تعلقات استوارکرنے کی راہ پرگامزن ہونے کے لئے بے تاب تھے چاہے اس کے لئے امریکا کو کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ کیاخودامریکا کے خیرخواہ اوران کے اتحادی ایک مرتبہ پھرٹرمپ کی ان پالیسیوں کے اجراکی حمایت کریں گے جس کی بناپرامریکاتیزی سے تنہائی کاشکارہونے جارہا ہے۔