اظہارِرائے کی آزادیکامفہوم اورتعریف تویہ ہے کہ کسی کوبھی کھل کراپنانکتہ نظربیان کرنے،سوال اٹھانے،اختلاف اورتنقیدکرنے کی اجازت ہے، لیکن کسی دوسرے کی تذلیل اور کردارکشی کرنے اوردوسروں پرتہمتیں لگاکراس کونقصان پہنچانے کی کسی کواجازت نہیں ہے۔ اظہاررائے کی آزادی میں تنقیدکاحق بجاہے،لیکن یہ خیال رکھنابھی ضروری ہے کہ جہاں تنقیدکی حدختم ہوتی ہے،وہاں سے ہی تذلیل کی سرحدشروع ہوجاتی ہے اورکسی کی تذلیل کرناہرمعاشرے میں براعمل ہے۔کئی لوگ تنقید کرتے کرتے تمام حدیں عبورکر جاتے ہیں اورنفرت انگیزمذہبی وسیاسی تقاریرکرنے، شرانگیز بیانات دینے،کسی کی عزت کوداغدارکرنے،کسی کی توہین،کسی کے وتحقیراورتذلیل کرنے،مذہب، مسلک،فرقے اور کسی کی محترم شخصیت پرانگلی اٹھانے کورائے کی آزادی سمجھتے ہیں،حالانکہ یہ آزادی رائے کے اخلاقی حق کی کھلی خلاف ورزی اوران کی شعوری پستی کامنہ بولتاثبوت ہے۔ دنیاکے کسی بھی معاشرے میں رائے کے اظہارکی ایسی آزادی نہیں دی جاتی،جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہوں۔ہرمعاشرے نے اپنے اپنے حالات کے مطابق اظہاررائے کی حدود مقررکی ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں1966ء میں پاس کی گئی ایک قرارداد”آئی سی سی پی آر”کے مطابق ضروری ہے کہ کوئی بھی ایسی تقریریاتحریرجوکسی ملک میں رہنے والے کسی بھی فردیاگروہ کی مذہبی،قومی یانسلی مخالفت یادل آزاری کاسبب بنے اوران کے خلاف نفرت یاحقارت کا اظہارکرے تواس ملک کافرض ہے کہ اس کوروکے اوراس کے خلاف قانون سازی کرے،جبکہ متعدد یورپین ممالک میں آزادی اظہاررائے پربہت سی پابندیاں ہیں۔میں آپ کے توسط سے آج یہ بتاناچاہتاہوں کہ26اکتوبر2016ء کویورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق نے فیصلہ دیاتھاکہ پیغمبرِاسلام کی توہین آزادیِ اظہارکی جائزحدوں سے تجاوزکرتی ہے،اوراس کی وجہ سے تعصب کوہوامل سکتی ہے اوراس سے مذہبی امن خطرے میں پڑسکتاہے۔یہ فیصلہ عدالت نے پیغمبرِاسلام کے بارے میں توہین آمیزکلمات کہنے والی آسٹریاسے تعلق رکھنے والی خاتون کے خلاف سزاکے فیصلے کی اپیل پر صادرکیا تھا ۔عدالت کافیصلہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
میں یہاں آپ کوبتاتاچلوں کہ فرانس کے شہرسٹراسبرگ میں واقع ای ایچ سی آرعدالت نے خاتون کوسزادیتے وقت ان کی آزادیِ اظہار اوردوسروں کے مذہبی احساسات کے تحفظ کے حق کابڑی احتیاط سے توازن برقراررکھا۔اس خاتون نے،جس کانام ظاہرنہیں کیاگیااور انہیں صرف ای ایس کہاجاتاہے،2008ء اور2009ء میں اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات کے عنوان کے تحت مختلف تقاریرمیں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں چندکلمات اداکیے تھے جن کی پاداش میں ان پرویاناکی ایک عدالت میں مقدمہ چلااورعدالت نے انہیں فروری 2011ء میں مذہبی اصولوں کی تحقیرکامجرم قراردیتے ہوئے 480 یورو کاجرمانہ،مع مقدمے کاخرچ،عائدکردیا۔اس فیصلے کو آسٹریاکی اپیل کورٹ نے بھی برقرار رکھاتھا۔اس کے علاوہ 2013ء میں عدالت عظمیٰ نے بھی اس مقدمے کوخارج کردیاتھا۔
یہ فیصلہ ججوں کے7رکنی پینل نے دیا۔اس کے بعداس خاتون نے یورپی یونین کے قانون کی انسانی حقوق کے بارے میں شق10کاسہارالیتے ہوئے یورپی عدالت میں اپیل کی کہ مقامی عدالتیں ان کی آزادیِ اظہارکے حق کاتحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی یادرکھنے کی ہے جس عدالت نے یہ فیصلہ صادرکیاہے،وہ عدالت کل47ججوں پرمشتمل ہے جن کے نام یورپی یونین کے رکن ممالک تجویزکرتے ہیں جبکہ ان کا انتخاب کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی کرتی ہے۔اس آسٹرین خاتون نے یہ مقدمہ انسانی حقوق کی شق10کے تحت درج کروایا تھا کہ آسٹریاکی مقامی عدالتوں نے ان کے آزادیِ اظہار کے بنیادی حق کاتحفظ نہ کر کے یورپین کنونشن برائے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔تاہم ان کی اپیل مستردہوگئی۔
یہ شق نمبر10کیاہے؟شق نمبر10میں جہاں آزادی رائے کا حق دیاگیاہے وہیں دوسرے حصے میں آزادیِ اظہارپرقدغنیں بھی لگائی گئی ہیں اور کہا گیاہے کہ آزادیِ اظہارکے ساتھ فرائض اورحقوق بھی شامل ہیں اوریہ آزادی کسی جمہوری معاشرے کے قانون کے دائرے کے اندررہتے ہوئے رسوم، حالات،ضوابط کے ماتحت ہے اور اس کی آڑمیں کسی کے جذبات مجروح نہیں کیے جا سکتے۔ اس فیصلہ آنے کے بعدیہ پروپیگنڈہ کیاگیاکہ یورپین ممالک بہت معتدل مزاج ہوتے ہیں اوروہ کسی بھی متعصبانہ اور امتیازی رویے کواپنا شعار نہیں بناتے۔یورپ معتدل پسند،آزادخیال اورہرقسم کی آزادی کاقائل ہے اورپوری دنیاکے مذاہب اورانسانوں کے ساتھ اس کارویہ غیر امتیازانہ ہے توایسابالکل بھی نہیں ہے کیوںکہ ہرمعاملے میں ان کے دہرے معیارات واضح اور صاف صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔
آخران قوانین کی موجودگی میں فرانس کے صدرکی طرف سے پیغمبراسلام کی توہین کاپس منظر کیا ہے ؟ ایک طویل مدت سے آزادی اظہارکے نام پرپیغمبراسلام سیدنامحمدﷺکی توہین ایک تسلسل کے ساتھ کی جارہی ہے۔سوشل میڈیااس بات پرتل گیاہے کہ آپﷺکی جس حد تک بھی ممکن ہو،تضحیک اورنعوذباللہ مذاق اڑانے کی کوشش کی جائے جس کی وجہ سے تمام عالم اسلام میں سخت غم وغصہ پایاجارہاہے۔ہرمرتبہ کی توہین،گستاخانہ خاکوں اورتحریروں کے بعدپورے عالم اسلام میں ایک ہلچل مچ جاتی ہے،جلوس نکالے جاتے ہیں ،جلسے ہوتے ہیں اوردنیاکے کونے کونے میں صدائے احتجاج بلندکی جاتی ہے۔اس احتجاج میں صرف مسلمان ہی شریک نہیں ہوتے بلکہ حقیقت کوسمجھنے والے اورزمینی حقائق پرنظر رکھنے والے غیرمسلموں کی بھی ایک بڑی تعدادمسلمانوں کی ہم زبان ہے جواس بات کی علامت ہے کہ پاک ہستیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی تضحیک ایک ایساعمل ہے جو فطرت انسان کی برداشت سے باہرہے۔ اسلام ایک ایسامذہب ہے جونہ صرف اب تک بھیجے جانے والے تمام انبیاعلیہ السلام کومانتاہے بلکہ وہ دیگرمذاہب کے مذہبی پیشواں کی عزت و احترام کوبھی نہ صرف دل سے تسلیم کرتاہے بلکہ ان کی بھی وہی عزت وتعظیم کرتاہے جواللہ کے ولیوں اورپیغمبروں کی جاتی ہے کیونکہ ہمیں توقرآن نے یہ سبق دیاہے کہ:اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں،ہم اس کے رسولوں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے۔
جس انداز میں رسول اکرم ؓ کی توہین کی جاتی ہے اس کے جواب میں مسلمانان عالم وہ سب کچھ نہیں دہراسکتے جوکچھ یہ باطل شیاطین کررہے ہیں کیونکہ ہرپاک ہستی مسلمانوں کے لئے محترم اورقابل تعظیم سمجھی جاتی ہے لہذایہ ممکن ہی نہیں کہ پیغمبراسلام کی توہین کے جواب میں دیگرمذاہب کی پاک ہستیوں یاان کے رسولوں اورپیغمبروں کی تضحیک کی جائے۔ممکن ہے توہین کے جواب میں وہ منتظرہوں کہ مسلمان بھی ان کے رسولوں اورپیغمبروں کی تضحیک پراترآئیں اوران کواس بہانے فتنہ وفسادمچانے کاموقع مل جائے لیکن دنیابھرکے مسلمانوں نے ان کی پستی تک گرجاناگوارہ کرنے کے بجائے احتجاج کی راہ اختیارکی اورکسی بھی متشددانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے دنیابھرمیں پرامن صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں،جس کا آخرکاراللہ کے فضل وکرم سے ایک اچھانتیجہ نکلتاہے اوردنیاکوتسلیم کرناپڑتاہے کہ ہر قسم کی بے غیرتی کواظہاررائے کے حق کانام نہیں دیاجاسکتا۔
دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ2019ء کی مردم شماری کے مطابق فرانس کی کل آبادی66ملین ہے اوراس وقت 60 لاکھ مسلمان فرانس میں مقیم ہیں اورسرکاری رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی سالانہ 4فیصدآبادی میں اضافہ ہورہاہے اورمشہورزمانہ قابل اعتماد’’ڈیو‘‘ ادارے کے مطابق 2050ء تک مسلمان تعداد میں زیادہ ہوں جائیں گے اورملک کا اقتدار مسلمانوں کے پاس جاسکتاہے۔
(جاری ہے)