(گزشتہ سے پیوستہ)
تیسری وجہ یہ ہے کہ یورپ میں فرانس واحدملک ہے جہاں78فیصدمسلمان’’پریکٹسنگ مسلمان‘‘ ہیں اور 84فیصدمسلمان ماہِ رمضان میں پورے روزے رکھتے ہیں اور مساجد کی رونقیں دیکھ کران شدت پسند لوگوں کی نیندیں حرام ہورہی ہیں جبکہ اسی ادارے کے مطابق فرانس میں 60فیصد افراد ’’ملحد‘‘بے دین ہوچکے ہیں اورعیسائیت دم توڑرہی ہے جس کی وجہ سے ویٹی کن کافی تشویش میں مبتلاہے جبکہ فرانس سمیت سارے یورپ میں تیزی سے اسلام قبول کرنے والوں کی تعدادمیں بھی اضافہ ہورہاہے۔ایک مشہورعالمی جریدے کی شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فرانس کی 60 فیصد آبادی ’’ولد الزنا‘‘ یعنی ناجائز بچوں پرمشتمل ہے۔زناکے پیداواربچوں کی یہ تعداددنیامیں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔اب جہاں کی اکثر آبادی کے متعلق ان کے اپنے جریدے یہ انکشاف کرتے ہیں، وہاں دنیا کی پاکیزہ ترین ہستی رسول اللہ ﷺ کااحترام کیسے کیاجائے گا؟
اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں مذہبی فرقہ واریت کے باوجودتضحیک کے ایسے واقعات رونمانہیں ہوئے جیساکہ مغرب کی سول سوسائٹی میں دیکھنے کو ملتاہے لیکن یہاں بھی اظہارِ آزادی کابیہودہ سلسلہ ایساچل نکلاہے کہ بغیرکسی تصدیق کے سوشل میڈیاکے توسط سے قیامت خیزمناظردیکھنے کومل جاتے ہیں اورگھربیٹھی بیٹی کے نام ایسے واقعات منسوب کرکے اسی کی زندگی اجیرن کردی جاتی ہے جبکہ وہ خوداپنے والدین کے ہمراہ ساری میڈیاکے سامنے اس سارے من گھڑت واقعہ سے لاتعلقی کااظہارکرنے کے لئے مجبورکردی جاتی ہے لیکن اس واقعہ نے ملک بھرمیں بیٹیوں کے والدین کے دلوں پرجوصدمات کے کوہِ گراں گرائے ہیں،اوراس سے ملک کاجوخطیرنقصان ہواہے،اس کامداواکیسے ہوگا۔ کیا ہم اپنے خالق رب کریم کے اس حکم کی نافرمانی کے مرتکب نہیں ہوئے جس نے واضح طورپر فرمایاہے کہ اے ایمان والو!اگر کوئی شریرآدمی تمہارے پاس کوئی خبرلاوے توخوب تحقیق کرلیا کرو، کبھی کسی قوم کونادانی سے کوئی ضررنہ پہنچادو،پھراپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔ (الحجرات:6)اورایساہی ارشادمیرے آقاﷺکا بھی ہے، آدمی کے جھوٹاہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہرسنی ہوئی بات بیان کردے۔
ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھرارضِ وطن میں آئینی ترامیم کے حوالے سے قوم کوبے شمارشکوک وشبہات میں مبتلاکردیاگیاہے اور اس میں حکومت کی عجلت اور اداروں کی نااہلی اورتقسیم نے جلتی آگ پرپانی پھینکنے کی بجائے تیل پھینک کراس کے لاؤکومزید بھڑکادیا ہے۔ یقیناان ترامیم کی تفصیلات اوراس کے نتائج سامنے بھی آناشروع ہوگئے ہیں لیکن نجانے کیوں مجھے سات سوسال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی اس تحریرمیں مستقبل کے تصورکامنظرنامہ نظرآرہاہے۔
’’مغلوب قوم کوہمیشہ فاتح کی تقلیدکاشوق ہوتاہے،فاتح کی وردی اوروردی پرسجے تمغے،طلائی بٹن اوربٹنوں پرکنندہ طاقت کی علامات ،اعزازی نشانات، اس کی نشست و برخاست کے طورطریقے،اس کے تمام حالات،رسم ورواج،اس کے ماضی کواپنی تاریخ سے جوڑ لیتے ہیں،حتی کہ وہ حملہ آورفاتح کی چال ڈھال کی بھی پیروی کرنے لگتے ہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جس طاقتورسے شکست کھاتے ہیں،اس کی کمال مہارت پرآنکھیں بندکرکے یقین رکھتے ہیں۔محکوم معاشرہ اخلاقی اقدارسے دستبردار ہوجاتاہے،ظلمت کادورانیہ جتنا طویل ہوتاہے،ذہنی وجسمانی طورپرمحکوم سماج کاانسان اتناہی جانوروں سے بھی بدترہوجاتاہے، ایک وقت آتاہے کہ محکوم صرف روٹی کے لقمے اورجنسی جبلت کے لئے زندہ رہتاہے۔
جب ریاستیں ناکام اورقومیں زوال پذیر ہوتی ہیں توان میں نجومی،بھکاری،منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور،کھجورکی گٹھلیوں کے قاری،درہم ودینار کے عوض فتوی فروش فقہیہ،جھوٹے راوی،ناگوار آواز والے متکبر گلوکار،بھداڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے،خودساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے،خوشامدی، طنز اورہجو کرنے والے،موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے۔ہرروزجھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگریقین کوئی نہیں کرتا، جس میں جووصف سرے سے نہیں ہوتاوہ اس فن کاماہرمانا جاتاہے،اہل ہنراپنی قدرکھودیتے ہیں،نظم ونسق ناقص ہوجاتاہے،گفتارسے معنویت کاعنصر غائب ہوجاتاہے، ایمانداری کوجھوٹ کے ساتھ،اورجہادکودہشت گردی کے ساتھ ملادیاجاتاہے۔
جب ریاستیں بربادہوتی ہیں،توہرسودہشت پھیلتی ہے اورلوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہرہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اوردشمن دوست میں بدل جاتاہے،باطل کی آوازبلندہوتی ہے اورحق کی آوازدب جاتی ہے،مشکوک چہرے زیادہ نظرآتے ہیں اورملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں،حوصلہ افزاخواب نایاب ہو جاتے ہیں اورامیدیں دم توڑجاتی ہیں،عقلمندکی بیگانگی بڑھ جاتی ہے،لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اورجماعت،گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔
مبلغین کے شورشرابے میں دانشوروں کی آوازگم ہوجاتی ہے۔بازاروں میں ہنگامہ برپاہوجاتاہے اوروابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی،حب الوطنی،عقیدہ اورمذہب کی بنیادی باتیں ختم ہوجاتی ہیں اورایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں۔بالآخرحالات اس نہج پرپہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اوروہ ہے ہجرت، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیارکرنے کی باتیں کرتاہے،تارکین وطن کی تعدادمیں اضافہ ہونے لگتاہے،وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے،لوگوں کا کل سازوسامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتاہے،چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں،وطن یادوں میں اوریادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔
ابن خلدون خدا آپ پررحم کرے!کیا آپ ہمارے مستقبل کی جاسوسی کررہے تھے؟ آپ سات صدیاں قبل وہ دیکھنے کے قابل تھے جو ہم آج تک دیکھنے سے قاصرہیں۔کاش یہ تحریرہمارے حکمران طبقے اورعوام تک بھی پہنچ جائے جو آج اپنے تئیں عقل کل سمجھتے ہوئے تیزی سے بربادی کی گڑھے میں گرتے جارہے ہیں۔ امت مسلمہ کی پستی کی داستان ہمارے مسلم دانشوروں نے بہت پہلے بھانپ لی تھی کیونکہ وہ لوگ کوتاہ نظرنہ تھے، بلکہ دیدہ بینارکھتے تھے۔کاش ہم اب بھی سنبھل جائیں توامت اپنے بگڑے کوسنوارنے کی کوئی صورت نکال پائے لیکن اس کے لئے جس باضمیراورمخلص قیادت کی ضرورت ہے اس کاآج شدید فقدان ہے۔اظہار رائے کی آزادی کو ضرور استعمال کریں لیکن اس بات کاخیال ضروررکھیں کہ کل کلاں کوئی اللہ کے ہاں آپ کی شکائت نہ کرے۔