Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

قومی خزانے پر عدالتی مراعات کا بوجھ، حقائق اور سوالات

پاکستان کی وفاقی وزارت قانون وانصاف کی جانب سےجاری نوٹیفیکشن میں اعلان کیا گیاکہ سپریم کورٹ کے ججوں کوملنے والےہاؤس رینٹ (گھروں کا کرایہ)ساڑھےتین لاکھ روپےجبکہ جوڈیشل الاؤنس میں دس لاکھ روپے سے زیادہ اضافہ کردیاگیاہےلیکن انصاف مہیا کرنے والے کسی ایک جج نے بھی پاکستان کی ابترمعاشی حالت کوسامنے رکھتے ہوئے ان الاؤنسز میں اضافے پرایک لفظ تک نہیں کہا۔کسی میں تواتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ لاکھوں کے اضافے سے انکارکر دے۔ گھروں کا اتناکرایہ95 فیصد پاکستانیوں کی ماہانہ تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔کرایے کی مدمیں ساڑھے تین لاکھ روپےکون اداکرتاہے؟
اس ملک میں یہ عجیب مذاق ہے۔ججوں کے لئے گھرکے کرائے کی مدمیں الانس کو65 ہزار روپے سےبڑھاکرساڑھے3 لاکھ روپےکردیا گیاجبکہ جوڈیشل الاؤنس کودس لاکھ روپے سے زیادہ کردیاگیاہےجبکہ غریب کے پاس کھانے کوکچھ نہیں،مڈل کلاس کی تنخواہیں نہیں بڑھتی ہیں،ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے،قابل نوجوانوں کے پاس روزگارنہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق2015ء سے لےکر 2024ء کے ابتدائی پانچ مہینوں تک مجموعی طور پر62لاکھ20ہزارسےزائد پڑھےلکھے نوجوان ملک چھوڑچکے ہیں۔بیوریوآف امیگریشن کے مطابق صرف 2023 میں8 لاکھ23 ہزارنوجوان اور2024ء میں اب تک8 لاکھ95 ہزارنوجوان پاکستان کوخیربادکہہ چکے ہیں لیکن دوسری طرف تقریباً ہرسال ججوں کی تنخواہوں اور مراعات میں لاکھوں کا اضافہ ہوتاچلاجاتا ہے۔ ججز کو ملنے والی نئی مراعات اور دیگر الاؤنسز کے مطابق ایک جج کی ماہانہ تنخواہ 20 لاکھ روپے سے زیادہ ہو گئی ہے ۔
ادھر پارلیمان میں 26ویں ترمیم کی منظوری لیکر طوفانی رفتار سے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے سپریم کورٹ میں ججوں کی 34 تک کرنےکابل منظورکروایا گیاجبکہ اس سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد17 سے بڑھا کر 25 کرنے کی منظوری دی تھی۔ اب ان قوانین کی منظوری کےفوری بعد من پسند ججز کی تقرری کے بعد ان کو نوازنے کے لئے شاہانہ مراعات کا اعلان کردیا گیا ہے۔
یادرہے کہ اِس وقت سپریم کورٹ میں ججزکی تعداد19ہےجس میں سے17مستقل جبکہ2 ایڈہاک جج ہیں۔بظاہرحکومت نے اپنے اس اقدام کی بنیادی وجہ عدالتِ عظمی میں ہزاروں کی تعدادمیں زیرِالتوامقدمات کو نمٹانا بتائی ہے۔سپریم کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق اِس وقت عدالتِ عظمیٰ میں زیرالتوامقدمات کی تعداد60 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ ساری قوم اس حکومتی اقدام کو ’’اعلیٰ عدلیہ‘‘کے ججوں کو دبائو میں لانے اورمن پسند افراد کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سوچی سمجھی سازش قراردیتے ہوئے پریشان ہے کہ وہ کس کے ہاتھ پراپنی بے بسی اوراپنے حقوق کاخون تلاش کرے۔ان مراعات کااعلان کرتے ہوئے زیادہ بہترتویہ تھاکہ قوم کویہ بھی بتایاجاتاکہ سپریم کورٹ کے ججزکوحکومت کی جانب سے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ کیاکیاسہولیات اورمراعات ملتی ہیں؟
پاکستان میں سپریم کورٹ کےچیف جسٹس کی تنخواہ اس وقت تقریباًساڑھے12لاکھ روپے ہے۔ وزارت انصاف وقانون کےگزشتہ برس جولائی میں جاری ہونے والے نوٹیفیکشن کے مطابق سپریم کورٹ کےباقی ججزکی ماہانہ تنخواہ تقریباگیارہ لاکھ بنتی ہے۔سپریم کورٹ ججز لیو، پینشن اینڈپریولیجزآرڈر1997کے مطابق سپریم کورٹ کے ججزکوماہانہ تنخواہ کے علاوہ سرکاری گھربھی ملتاہے۔سرکاری گھرنہ ملنے کی صورت میں سپریم کورٹ کے جج کوکرائے کےگھرمیں رہنے پر ماہانہ کرائے کی مدمیں الائونس دیاجاتاہے۔گھرکے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان ججزکے گھرمیں استعمال ہونے والی بجلی،گیس اورپانی کابل بھی حکومتی خزانے سے اداکرتی ہے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ کےجج کوسرکاری گاڑی کے ساتھ ماہانہ 400 لیٹرپیٹرول بھی ملتاہے۔سپریم کورٹ کےججزکوانکم ٹیکس سے بھی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ ججزکوروزمرہ کے اخراجات کے لئےالاؤنس جبکہ اس کے ساتھ جوڈیشل الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ پرسپریم کورٹ کے جج کوپینشن کے علاوہ یہ سہولت بھی ملتی ہے کہ وہ سرکاری خرچ پراپنی مرضی کاایک ڈرائیوریاملازم بھی رکھ سکتاہے تاہم جج کی موت کے بعد ان کی بیوہ کوبھی یہ سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔
میں تویہ سن کربھی حیران ہوں کہ ججز کوقرض دیےجارہے ہیں،وہ بھی سودسے پاک۔وہ توپہلے ہی سرکاری گھروں میں رہ رہے ہیں اورانہیں مراعات بھی ملتی ہیں۔لاہورہائیکورٹ بار کونسل کے ایک عہدیدارکے مطابق پنجاب کی نگراں حکومت کی جانب سے لاہورہائی کورٹ کے11ججز کوگھروں کی تعمیرکے لئے 36کروڑروپےسے زائدکے بلاسود قرضے دینے کی منظوری دی گئی تھی جس کی تصدیق اُس وقت نگراں حکومت کے وزیرِ اطلاعات نے بھی کی۔ صوبائی کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے دی گئی اس منظوری پر ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میں ایسےاقدامات سےسرکاری خزانے کو نقصان پہنچانےکا آخرکون ذمہ دارہے؟ کیااس قومی نقصان اورجرمِ عظیم پرعدلیہ کوسوموٹو نوٹس لینےکی توفیق ہوئی؟
تاہم اس وقت جب یہ سوال میں نے اپنے ایک کالم میں نگران حکومت سے پوچھا توانہوں نے بڑی معصومیت سے اپنی جان چھڑاتے ہوئے جواب دیاکہ ماضی میں بھی ججزکوبلاسود قرضے دیئےجاچکے ہیں جس کاایک مقصدانہیں کرپشن سے دوررکھناہے۔کیاکوئی صاحب عقل اس منطق سے اتفاق کرسکتاہےکہ ایسے فرد کی بطور جج تعیناتی ہی کیوں کی جائے جس پرذرہ بھربھی کرپشن کا شک ہوتوگویااگریہ مراعات نہ دی جائیں توججزکاکرپشنز میں ملوث ہونے کااحتمال ہے،اورکیا ماضی میں ایسی کوئی مثال ہے جب آپ نے کسی کرپٹ جج کو عبرت ناک سزاسنائی ہو۔یہاں توخودسپریم کورٹس کےججزنے متفقہ طورپرذوالفقارعلی بھٹوکی پھانسی کو غلطی قراردیکرثابت کردیاہے اورویسے بھی درجنوں مثالیں ایسی ہیں کہ سپریم کورٹ نے ملزمان کوباعزت بری کیاہے لیکن پتہ چلتاہےکہ ملزمان کوتوکئی برس پہلے پھانسی کے پھندے پرلٹکادیاگیاتھااوراب ان کےخاندان زمانے بھرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں ۔
نگران حکومت نےاپنی غلطی ماننے کی بجائے یہ منطق پیش کردی کہ سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایجنڈا نمبر 17، 18 اور 19 میں11 ججز کو گھروں کی تعمیرکے لئے جو ’’ بلا سودقرض‘‘منظورکئے گئےجوہرجج کے لئے اوسطاقریب ساڑھے تین کروڑ روپے کی رقم بنتی ہے،یہ قرضے ججزکی تین برسوں کی36بنیادی تنخواہوں کے برابرہیں جوکہ12سال کی مدت میں ان کی تنخواہوں سے ہی منہاکرلیے جائیں گے جبکہ یہ چھپایاگیاکہ ان مراعات کے بدلےخود حکومت ان ججزسے کیامراعات وصول کرتی ہیں۔یہ نہیں بتایاگیاکہ اگراس کی کیا گارنٹی ہے کہ جج اگلے12سال تک زندہ بھی رہے گایاکہ نہیں۔
حکومت نےاپنابوجھ اتارنے کےلئےقوم کویہ توبتادیاکہ’’ججوں کی قرضوں‘‘کے لئے درخواستیں لاہورہائی کورٹ کے رجسٹرارآفس کی جانب سے آئی تھیں جنہیں روٹین کے مطابق پنجاب کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ نے منظورکرلیالیکن حکومت کے دوسرے اداروں میں کام کرنے والےملازمین ایسی مراعات سے کیوں محروم ہیں جبکہ وہ توباقاعدہ اپنی تنخواہوں پرٹیکس بھی دیتے ہیں اورججزتوہرقسم کے ٹیکس سےمستثنٰی ہیں۔حکومت نے یہ بھی اعتراف کیاکہ یہ وہ11جج حضرات ہیں جوقرضے لینے سے رہ گئےتھے۔ لاہورہائی کورٹ کے باقی تمام ججزماضی میں گھر بنانےکےلئےمختلف حکومتوں سےسودفری قرض حاصل کر چکے ہیں۔ان 11ججوں نے بھی یہی مؤقف اختیارکیاتھا۔
حکومت نے اپنی غلطی یاکرپشن چھپانے کے لئے مزیدکہاکہ’’ججوں کوسودفری قرضے دینے کا ایک بڑامقصدانہیں کرپشن سے دور رکھنابھی ہے تاکہ وہ اپنے وسائل سے ہی اپنی سروس کے دوران گھربنانےکے قابل ہوجائیں‘‘ جبکہ عقل کے ان اندھوں کویہ معمولی بات کیوں سمجھ میں آتی کہ ججزپہلے ہی بڑی تنخواہیں اور مراعات وصول کررہے ہیں توایسے میں یہ بلا سودقرض بھی بظاہربدعنوانی کی ایک قسم ہے جس کے ذریعے دراصل ججزسے اپنے حق میں مراعات لینامقصودہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں