مدینہ منورہ میں داخلہ ہمیشہ سے اہلِ ایمان کے لئے روح کی تازگی اور دل کے سکون کا ذریعہ رہا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس کی فضائوں میں محبوبِ خدا ﷺ کی مہک بسی ہوئی ہے، جہاں قدم رکھتے ہی انسان کی طبیعت بدل جاتی ہے۔ یہاں نہ منصب باقی رہتا ہے، نہ دولت، نہ شہرت اور نہ ہی علم و فضل کی کوئی برتری۔ مدینہ میں آتے ہی ایک حقیقت غالب آ جاتی ہے کہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ادب سب سے آگے ہے۔ اسی حقیقت کی جھلک اس وقت پوری دنیا نے دیکھی جب شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے اپنے حالیہ سفر کے دوران روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی۔ دنیا بھر میں وائرل ہونے والی ویڈیو اور تصاویر میں وہ لمحہ محفوظ ہوگیا جب ایک کمزور، عمر رسیدہ عالم وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا تھا، مگر جیسے ہی مواجہہ شریف کے سامنے پہنچا، اس کی حالت بدل گئی۔ وہ احتراماً کھڑے ہوگئے ایسی عاجزی، ایسی نرمی اور ایسی کیفیت کے ساتھ کہ دیکھنے والا بھی محسوس کر سکے کہ دل میں عشقِ مصطفی ﷺ کیسے انگڑائیاں لے رہا ہے۔یہ کھڑے ہونا کسی ظاہری طاقت یا جسمانی قوت کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ دل کی پکار تھی، ایمان کی حرارت تھی، محبت کی روشنی تھی۔ وہ شخصیت کہ جنہیں دنیا بھر میں لاکھوں لوگ غلامی رسول ؐکی وجہ سے ہی احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، جن کے دینی علوم پر بڑے بڑے فقیہ فخر کرتے ہیں، جو بین الاقوامی علمی و فقہی اداروں کی سربراہی کرتے ہیںمگر روضہ رسول ﷺ کے سامنے پہنچ کر انہوں نے دنیا کے تمام تعارف بھلا دئیے۔ وہ نہ مفتی تھے، نہ شیخ الاسلام، نہ عالمِ ربانی وہ صرف ایک عاشق تھے جو اپنے آقا ﷺ کے در پر کھڑے تھے۔ یہی روضہ رسول ﷺ کی شان ہے کہ یہاں پہنچ کر سب کے رتبے مٹ جاتے ہیں اور صرف ایک چیز باقی رہ جاتی ہے۔ ’’ادب‘‘روضہ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام پیش کرنا صرف ایک عبادت نہیں بلکہ ایمان کی کیفیت ہے۔
مواجہہ شریف وہ مقام ہے جہاں ہر مسلمان کی روح بے اختیار جھک جاتی ہے۔ یہاں ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے۔ دل بھاری سا ہو جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، زبان پر درود خود بہ خود جاری ہو جاتا ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ اس ہستی ﷺ کے درِ مبارک پر کھڑا ہے جس کی بدولت اسے ایمان ملا، قرآن ملا، ہدایت ملی اور دنیا و آخرت کی کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ اسی لئے یہ جگہ دنیا بھر کے حکمرانوں، سلاطین، صوفیا، علماء اور عام مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہاں آ کر سب فرق ختم ہو جاتے ہیں۔ جو بادشاہ ہوتا ہے، وہ بھی سر جھکا دیتا ہے، اور جو فقیر ہوتا ہے، وہ بھی اسی بارگاہ کی برکت سے دل کا بادشاہ بن کر لوٹتا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب تو ایسا تھا کہ مسجد نبوی ﷺ میں آواز تک بلند نہ کرتے تھے۔ سیدنا عمر ؓنے ایک مرتبہ مسجد میں بلند آواز سے بات کرنے والوں کو سختی سے روکا اور فرمایا کہ یہ بارگاہ ادب کی ہے، یہاں اپنی آواز کو بھی کم کرنا لازم ہے۔ تابعین اور اولیا ء نے بھی اسی راستے کو اپنایا۔ کسی نے خوب کہا کہ مدینہ میں چلتے ہوئے جوتوں کی آواز بھی آہستہ رکھو کہ کہیں محبوبِ خدا ﷺ کی بارگاہ میں بے ادبی نہ ہو جائے۔ یہ ادب آج تک قائم ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔مفتی تقی عثمانی کا وہیل چیئر سے کھڑے ہونا دراصل اسی روایت کا تسلسل تھا۔ انہوں نے پوری دنیا کو یہ سبق دیا کہ عشقِ رسول ﷺ انسان کو تھکاوٹ سے بھی نکال دیتا ہے، کمزوری کو بھی طاقت میں بدل دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادب کسی منصب، علم یا عمر کا محتاج نہیں ،بلکہ دل کے جذبے کا نام ہے اور جب یہ جذبہ جاگ جاتا ہے تو انسان لیکن نہیں دیکھتا، صورتِ حال نہیں دیکھتا، صرف دل کی بات سنتا ہے۔ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے لئے وہ لمحہ صرف ایک ویڈیو نہیں تھا بلکہ ایمان کی تازگی اور محبت کی ایک روشن مثال تھی۔
حضور ﷺ کے روضے پر حاضری ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے۔ وہاں کھڑے ہونے والے جانتے ہیں کہ یہ مقام صرف ظاہری عبادت گاہ نہیں بلکہ دل کی دنیا کا مرکز ہے۔ وہاں پہنچتے ہی انسان اپنی پریشانیاں بھول جاتا ہے، اپنی تمام خواہشیں ثانوی ہو جاتی ہیں، اور سب سے بڑی خواہش صرف ایک رہ جاتی ہے کہ آقا ﷺ کی رحمت بھری نظر ہم پر پڑ جائے۔ یہاں سلام پڑھتے ہوئے آنکھیں نم ہونا اور دل کا لرز جانا ایمان کی علامت ہے۔ بعض عاشق تو وہیں کھڑے کھڑے رو پڑتے ہیں اور کچھ دعا مانگتے ہوئے اپنے آپ کو ایسا قریب محسوس کرتے ہیں کہ الفاظ بھی ساتھ نہیں دیتے۔یہ ادب انسان کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ جب بندے کے اندر ادب پیدا ہو جاتا ہے، تو دین خود اس کی طرف کھنچ آتا ہے۔ روضہ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہونے والا شخص جب واپس لوٹتا ہے تو اس کے چلنے، بولنے، سوچنے، ہر چیز میں ایک سکون اور نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ زندگی کو مختلف انداز سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے دل میں نرمی آ جاتی ہے، اس کی زبان پر شائستگی آ جاتی ہے اور اس کے اخلاق میں وہ خوشبو پیدا ہو جاتی ہے جو صرف مدینہ والوں کا خاصہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ روضہ رسول ﷺ کی حاضری کو زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ کہا جاتا ہے۔ لوگ وہاں جا کر دنیا کے بادشاہ بننے نہیں جاتے، بلکہ وہاں دلوں کے بادشاہ بن کر لوٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو یہ سعادت عطا کر دے، سمجھ لیں کہ اس کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائیاں کھل گئیں۔ حاضری کی قبولیت کی علامت یہی ہے کہ انسان کے دل میں نرمی، محبت اور ادب بڑھ جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو بار بار روضہ رسول ﷺ کی حاضری نصیب فرمائے، وہاں کھڑے ہونے کی سعادت دے، ادب و محبت کے ساتھ سلام پیش کرنے کی توفیق عطا کرے اور ہمارے دلوں کو ہمیشہ آقا ﷺ کی محبت سے سرشار رکھے۔ یہی محبت ایمان کا حسن ہے اور یہی ادب روح کی زندگی ہے۔ آمین۔