Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

فلمی جرنیل کی ناآسودہ خواہشات

آپریشن سندور کی ناکامی اور پاکستان کے آپریشن بنیان مرصوع کی کاری ضرب غالباً اس شدت سے پڑی ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا دماغ الٹ گیا ہے، اور وہ فلمی ڈائلاگ بولنے لگے ہیں۔ یا شاید بچپن کی کوئی ناآسودہ خواہش جاگ اٹھی ہے، جس کے زیر اثر اس نے سوچا کہ میدانِ جنگ میں جیت تو ممکن نہیں، تو کم از کم ممبئی کی فلم نگری کو متوجہ کر لیا جائے۔ کہتا ہے ،مئی میں جو ہوا’’ وہ تو محض ٹریلر تھا، اصل فلم ابھی باقی ہے میری جان!” واہ جنرل صاحب، ڈائلاگ بول کر تو آپ نے سلمان خان، شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن سب کو ایک ساتھ بے روزگار کر دیا۔ اگر بھارتی حکومت کو سمجھ آ گیا کہ آپ جنگ نہیں، صرف اسکرین پلے کے کھلاڑی ہیں تو نوکری کا کیا بنے گا؟ پھر تو ممبئی جا کر چوپاٹی پر چائے بیچنے یا ڈھولکی بجانے کا کام ہی مل سکے گا۔ ویسے کہتے تو بالکل ٹھیک ہیں؛ رافیل کا بیڑہ غرق، ایئر بیسز پر دھماکے، سفید جھنڈے، عالمی ثالثی کی بھیک، ڈونلڈ ٹرمپ کا “آٹھ طیارے گرے” والا ٹوئٹ، یہ سب ٹریلر تھا، تو اصل فلم میں تو بھارت ماتا کی گائے ہی ذبح ہو جائے گی، انشاء اللہ۔ صاحب کہہ تو بالکل ٹھیک رہے ہیں!
اب آتے ہیں اصل بیماری پر۔ بھارت نے پچھلی ایک دہائی سے قومی سلامتی کو مکمل بالی وُڈ کا سب سے سستا اور گھٹیا ایکشن سین بنا رکھا ہے۔ نریندر مودی ہوں یا گودی میڈیا کے چمچے، سب مل کر “سرجیکل اسٹرائیک”، “بالاکوٹ ریڈ”، “فائنل شو ڈاؤن”، “ہیروئزم”، “56 انچ کا سینہ” اور اب “اصل فلم باقی ہے” جیسے گھسے پٹے، پھٹے پرانے ڈائلاگ مارتے پھرتے ہیں۔ گویا دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازع کوئی سنیما ہال کا ٹکٹ والا تماشا ہو جہاں انٹری پر تالیاں بجیں گی اور بیک گراؤنڈ میں جے ہند” کا میوزک دشمن کو بھسم کر دے گا۔ اسی فلمی جنون نے بھارت کو بار بار منہ کے بل گرایا ہے، کیونکہ حقیقی جنگ میں نہ کوئی ہیرو ہوتا ہے، نہ انٹری پر تالیاں بجتی ہیں، نہ “مدر انڈیا” کی آنکھوں میں آنسو آ نے پردشمن ہتھیار ڈال دیتا ہے، اور نہ ہی “جے شری رام” کے نعرے پاکستانی شاہینوں کو روک لیتے ہیں۔ جیتتی ہے صرف صلاحیت، اور وہ بھارت کے پاس کبھی تھی ہی نہیں، نہ کبھی ہو گی۔
2019 میں جب بھارت نے فضائی جارحیت کی تو پاکستان نے دو مگ-21 مار گرائے، ابھینندن کو پکڑا، فنٹاسٹک چائے پلائی، نہلایا دھلایا، نئے کپڑے پہنائے، گلدستہ تھمایا، پریس کانفرنس کرائی اور پھر’’ باعزت‘‘ واپس بھیج دیا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان دفاعی طاقت کے ساتھ اخلاقی برتری بھی رکھتا ہے۔ بھارت نے سبق نہیں سیکھا۔ 1999 میں بھی کرگل کے دوران دو بھارتی طیارے گرائے تھے، پائلٹ ناچیکیتا کو پکڑ کر باعزت واپس کیا تھا۔ مگر بھارت کا غرور اتنا اندھا ہے کہ وہ بار بار وہی غلطی دہراتا ہے، وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانا ڈرامہ، وہی پرانی رسوائی۔ 2025 میں پھر وہی واہیات سرجیکل اسٹرائیک نما ڈرامہ، پھر رافیل سمیت7 آٹھ طیاروں کا جنازہ نکلا، زمینی دھاوا بولنے کی کوشش کی، فوجی چوکیاں تباہ ہوئیں، پھر سفید جھنڈا لہرایا۔ عالمی تھنک ٹینکس، امریکی، یورپی، سعودی، ترک، حتیٰ کہ متحدہ عرب امارات کی رپورٹس نے لکھ دیا کہ پاکستان کا ردعمل اتنا مربوط، پیشہ ورانہ، تباہ کن اور بھارتی توقعات سے کہیں زیادہ شدید تھا کہ بھارتی “روایتی برتری” کا بھوت چند گھنٹوں میں ہی دفن ہو گیا۔نتیجہ؟ نئی دہلی کو واشنگٹن، ریاض، انقرہ، لندن، برسلز، پیرس، برلن، حتیٰ کہ ابوظہبی اور دوحہ تک کے درباروں میں گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ وہ بھارت جو چین اور پاکستان دونوں سے بیک وقت لڑنے کے خواب بیچتا تھا، کشمیر میں تیسرے فریق سے انکار کرتا تھا، وہی چند دنوں میں ثالثی کی بھیک مانگنے لگا۔ وہ بھارت جو “56 انچ کا سینہ” دکھاتا تھا، وہی ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا “بس کر دو بھائی، ہم ہار مانتے ہیں، اب تو گھر والوں کو بتا دو کہ ہم زندہ ہیں”۔
بھارتی سیاست نے فوج کوبھی مکمل طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ ووٹ کی ہوس، ہندوتوا کا نشہ، قوم پرستانہ جنون اور الیکشن مہم اتنی چڑھی ہے کہ رافیل خریدنا ہو، سرجیکل اسٹرائیک ہو یا آپریشن سندور، سب کا مقصد ووٹ بینک ہے، قومی سلامتی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کبھی ذمہ دار ایٹمی ریاست نہیں بن سکا، نہ کبھی بن سکے گا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان نے ہر بار وہی کیا جو ایک پختہ، سنجیدہ، پیشہ ور اور ذمہ دار ریاست کرتی ہے: خاموشی سے تیاری، بردباری سے انتظار، مکمل اسٹریٹجک گہرائی، اور جب وقت آیا تو ایسا جواب کہ دشمن کے پاؤں تلے زمین نکل گئی، سانس رُک گئی اور غرور چورن ہو گیا۔ قوم کا مورال قائم رکھا، بیانیے کے محاذ پر برتری حاصل کی، عالمی سطح پر رابطے برقرار رکھے، امن پسندی کی ساکھ مضبوط کی اور عسکری قوت کو صرف اور صرف دفاع کے لیے استعمال کیا۔پاکستان کی خاموش، منظم، پیشہ ورانہ اور فیصلہ کن قوت کا بھارت کے پاس آج تک کوئی علاج نہیں، نہ کبھی ہو سکے گا۔ پاکستان شور نہیں مچاتا، جب گرجتا ہے تو دہلی میں زلزلہ آ جاتا ہے، روشنیاں بجھ جاتی ہیں ، چراغاں ختم اور سیاپا شروع ہوجاتا ہے ۔ بھارت ہر بار صبر کو کمزوری سمجھتا ہے اور ہر بار منہ کی کھاتا ہے، ہر بار رسوا ہوتا ہے، ہر بار گھٹنے ٹیکتا ہے۔ اب یہ “اصل فلم” والا ڈائلاگ بھی وہی پرانا واویلا ہے، وہی گھسا پٹا پروپیگنڈا، وہی جھوٹا تسلی کا سہارا۔ جان لیں کہ پاکستان کوئی فلم نہیں، ایک کھری، زندہ، سانس لیتے، خونِ جوش رکھنے والی حقیقت ہے۔ اگر ایک بار پھر کوئی “سندور” جیسا واہیات منصوبہ بنایا تو انجام وہی ہوگا جو 2019 میں ہوا، جو 2025 میں ہوا، اور جس کی ٹیس بھارتی جرنیلوں کے انگ انگ میں اب تک چبھ رہی ہے، نیند اڑا رہی ہے، کھانا ہضم نہیں ہونے دے رہی۔
پاکستان تصادم نہیں چاہتا، لیکن جب قومی وقار، سرحد، سلامتی اور عزت کی بات آئے گی تو جواب جذباتی نہیں، پیشہ ورانہ، درست، متناسب، تباہ کن اور یاد رکھنے والا ہوگا۔ جنگ وہی جیتتا ہے جس کے پاس مہارت ہو، نظم ہو، حکمت ہو، صلاحیت ہو اور سب سے بڑھ کر سچائی ہو۔ یہ سب پاکستان کے پاس ہے، اور بھارت کے پاس صرف فلمی ڈائلاگ، جھوٹے دعوے، گھسے پٹے نعرے اور ہر بار کی رسوائی ہے۔
۔۔۔اور ہاں، ممبئی کی فلم نگری نے آپریشن سندور پر فلمیں توبنانی ہی ہیں۔ کیوں نہ اصلی آرمی چیف کو ہیرو کا کردار دے دیا جائے؟ بےچارہ زندگی میں ایک بار جنگ جیتنے کا خواب تو پورا کر لے، چاہے سلور اسکرین پر ہی سہی۔ البتہ خطرہ یہ ہے کہ وہاں بھی ، پرانا سین نہ دہرا دے ، پاکستان کا نام آئے تو چیخ کر بھاگ کھڑا ہو ، ڈائریکٹر کو اس کا کچھ بندوبست کرنا ہوگا ، ورنہ تھرڈ کلا س فلموں کا ایک متبادل ہیرو تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں