مری سے آنے والی خبر خوش گوار بھی ہے اور حیران کن بھی، خبر کے مطابق مری بھر کے ایک سو سے زائد نمائندہ علمائے کرام نے پنجاب حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ائمہ مساجد کے لئے سرکاری وظائف کو یکسر مسترد کردیا ، قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ، تفصیلات کیمطابق مری بھر کے نمائندہ علماء کرام کا ایک بھرپور علما ء کنونشن مرکزی جامع مسجد علی الرتضی سنی بنک میں منعقد ہوا ،کنونشن میں مری بھر کے ایک سو سے زائد علمائے کرام نے شرکت کی ، کنونشن امیر مولانا قاری سیف اللہ سیفی کی صدارت جبکہ مفتی مری مفتی خالد حسین عباسی کی زیرنگرانی ہوا ۔ کنونشن میں متعدد علماء کرام نے اپنے علاقوں کے علما کی نمائندگی کرتے ہوئے خطابات کئے، مولانا شاہد احمد ستی نے علماء کوٹلی ستیاں ، مفتی مظہر غفور نے یوسی علیوٹ پھگواڑی ، مولانا شہزاد احمد عباسی نے ملاچھ لکوٹ ایکسپریس وے ،مفتی عزیز الرحمن عباسی نے یوسی نمبل ، مولانا یاسر ، مولانا فیضان الحسن عباسی نے یوسی مسیاڑی ،مولانا فیصل اعجاز نے یوسی اوسیاہ ودیول ، قاری مشتاق احمد نے یوسی روات ، مولانا عامر صابر عباسی نے مری سٹی ، قاری عقیل احمد عباسی نے یوسی گھوڑاگلی ، قاری اسماعیل عباسی ، قاری عطا الرحمن قریشی نے یوسی دریاگلی ، مولانا اصغرعلی عباسی نے یوسی نیومری ،مفتی امجد نواز نے موضع مسوٹ ، قاری ارشاد احمد عباسی نے یوسی تریٹ ،مولانا فخرالاسلام سیفی ، مولانا راحیل انار ، مولانا مسعود نے روات ، مفتی رمضان ولی نے کلسنگڑہ ، مولانا دلشاد ، مولانا رضاشاہ نے احاطہ نور خان ، مولانا طارق محمود عباسی نے موضع اوڑہ، مولانا عاصم عباسی ، مولانا کاشف نے موہڑہ ، مولانا طاھر نے سندھیاں اور حافظ صدام طاھر نے موضع کشمیرپوائنٹ نے نمائندگی وخطابات کئے ۔
کنونشن میں علما ء کرام نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری وظائف کے اعلان کو قرارداد کی صورت میں یکسر مسترد کرتے ہوئے مساجد ومدارس کے تحفظ کے لئے مل کر اجتماعی کوششیں بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ امیر مولانا قاری سیف اللہ سیفی نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ مساجد و مدارس کی حریت پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی ، مری وکوٹلی ستیاں کے علماء کرام پاکستان میں اکابر علماء کی مرکزی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں ، ہمارے خطے کی تاریخ نظریاتی ہے ، خطے میں مساجد ومدارس کے تحفظ کے لییاجتماعی کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی ۔ کنونشن میں پیش کی جانے والی قراردادوں کے مطابق ، مری بھر کے نمائندہ علماء پر مشتمل علما کنونشن سرکار ی وظائف کو یکسر مسترد کرتا ہے ، کنونشن خطے میں موجود تمام مساجد ومدارس کے تحفظ کے لئے مل کر اجتماعی کاوشیں بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کرتا ہے ، مساجد ومدارس کو درپیش چیلنجز کا خطے کے تمام علما ء مل کر مقابلہ کریں گے ، تمام قردادوں کو شرکا نے متفقہ طور پر منظور کیا ۔مورخ جب تاریخ لکھے گا تو اسے مری کے ان سو علما کرام کا نام سر بلند لکھنا پڑے گاکہ جنہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اعلان کردہ 25ہزار کے وظیفے کو مسترد کیاتھا،یہ جرات مندانہ کام ’’مولوی‘‘ ہی کر سکتے تھے سو انہوں نے کر دکھایا ،گو کہ ہمارے معاشرے میں درباری مولوی اور مفتی بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور ان کے مطابق سرکار سے لے کر کھانے میں کوئی حرج نہیں ،بلکہ سرکار کامال تو ’’مال مفت‘‘ ہے،اس لئے اسے کھانے کے بعد ڈکار نہ بھی آئے تو کوئی مضائقہ نہیں ،اگر سیاسی مذہبی ایم این اے،سینٹرز وغیرہ وغیرہ حکومت سے مراعات اور تنخواہیں لے سکتے ہیں،تو پنجاب کے مولوی ’’وزیرنی‘‘ اعلیٰ مریم نواز کی نوازشات کی بہتی گنگا میں 25, 25ہزار کا اشنان کیوں نہیں کر سکتے؟25ہزار اچھی خاصی رقم ہے،مگر مری کے علماء کراچی کے مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب اور مفتی طارق مسعود کی طرح 25 ہزار وظیفہ خوری کے حوالے سے کیوں نہیں سوچتے ؟یہ سارے علماء مولانا فضل الرحمن ،مفتی تقی عثمانی ،مولاناحنیف جالندھری اور پیر مختیار الدین کربوغہ شریف والوں کی طرح کیوں سوچنا شروع ہو گئے ہیں ؟
آج کے گئے گزرے دور کہ جس دور میں صرف دو سال میں 53 سو ارب کی کرپشن ہوئی اور 53سو ارب کی اس کرپشن میں مولویوں نے ایک دھیلے کا بھی حصہ نہیں لیا،ایسے نازک موقع پر اگر پنجاب حکومت 25,25 ہزار کا وظیفہ دے رہی ہے ،تو اسے رشوت ، ضمیر اور دین فروشی سمجھ لینا کہاں کی عقلمندی ہے؟اس خاکسار کا ووٹ بھی حکومت سے مال وصولنے کے معاملے پر مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب کے ساتھ ہوتا، پنجاب حکومت 25ہزار کا مذاق کرنے کی بجائے اگر اتنے نہیں تو کم ازکم جتنے ’’انہیں‘‘دیئے جارہے ہیں اس کا آدھا پنجاب کے ایماء اور خطباء کی خدمت میں پیش کرتی، جامعہ الرشید کے سبقت لسانی کے مریض مبلغین فرماتے ہیں کہ پنجاب حکومت کے 25ہزار وظیفے کا بھلا ضمیر فروشی اور دین فروشی سے کیا تعلق ؟اگر کبھی ملاقات ہوئی تو مری کے مفتی اعظم مفتی خالد حسین عباسی سے اس سوال کا جواب لے کر قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا ، مری کے مفتی خالد حسین عباسی سے اسلئے کہ، اس خاکسار کی ان سے جتنی ملاقاتیں ہوئیں ،وہ دارالفتا والارشاد ناظم آباد میں ہوئیں،تب نائن الیون کی کوکھ ابھی تک بانجھ ہی تھی،مرد حق فقیہ العصر حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی نور اللہ مرقدہ نہ صرف حیات تھے،بلکہ اس خاکسار پر ان کی شفقتوں کی چھتری بھی تنی ہوئی تھی وہ دارالفتا والارشاد کہ جو حضرت اقدس مفتی رشید احمد لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کی سرپرستی میں علم، باطنی اصلاح و تربیت،تقوی و طہارت ،جہادو تصوف کی دولت تقسیم کر تا تھا،مفتی اعظم مری خالد حسین عباسی اس ’’دارلفتا والارشاد‘‘اور آج کے ’’جامعہ الرشید‘‘کا موازنہ کرتے ہوئے حسب حال کچھ کہیں تو 25ہزار کی وظیفہ خوری کے حق میں تاویلیں تراشنے والوں کی اصلیت عوام پر مزید آشکارہ ہو جائے، شدید مہنگائی اورآپا دھاپی کے اس دور میں اگر حکومت سے مال لینے سے علما ء کا طبقہ انکار کر رہا ہے تو عوام کو اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ، ورنہ لنڈے کے لبرلز اور سیکولرز کو تو چھوڑئیے،نائن الیون کے بعد ضمیر فروشی ، نظریات فروشی اور دین فروشی کی دھندا گیری میں جن جن بعض مولویوں اور بعض پیروں نے ڈالر اور نوٹ وصولی کے ریکارڈ قائم کئے،یہ داستان طویل بھی ہے اور دلچسپ بھی،باقی مریم نواز کی پنجاب حکومت اور شہباز شریف کی مرکزی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ’’وظیفہ خوری‘‘سے انکار کرنے والے علماء کو53سو ارب کی کرپشن کے دور جدید میں غنیمت سمجھیں، آج کے دور میں پیسہ کس کی ضرورت نہیں ہے؟اگر مری یا پنجاب کے دیگر علماء کراچی کے ’’استاد صاحب‘‘ اور ان کی سوشل میڈیا برگیڈ نہیں بننا چاہتے تو اس سے حکمرانوں کی صفحوں میں کھلبلی کیوں مچی ہوئی ہے ؟ ایسے علماء ،خطباء اورایماء تو قابل تحسین ہیں کہ جو وظیفہ خوری کے نام پر قومی خزانے پر بوجھ بننے کے لئے آمادہ و تیار نہیں ہیں ،حیرت،حیرت در حیرت ،ذرا ذرا سی بات پر مولویوں اور اہل مذہب کو سوکنوں کی طرح طعنے دینے والا لبرل اور سیکولر شدت پسندوں کا مخصوص گروہ بھی اس موقع پر چپ سادھے بیٹھا ہے ،مگر کیوں، کیوں؟اگر وہ مخصوص گروہ بھی مولویوں کی زور زبردستی سے وظیفہ خوری پہ لگانے کی حکومتی کوششوں سے مطمئن ہے تو پھر دال آدھی نہیں بلکہ ساری کی ساری ہی کالی ہے۔