Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

رنگین طریقے ،عوامی پسند یا شریعت کی پابندی ؟

دعوتِ دین اسلام کی بنیادی ترین ذمہ داریوں میں سے ہے۔ یہ وہ فریضہ ہے جس کے ذریعے حق کو لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے، دلوں کو بیدار کیا جاتا ہے اور انسان کو اس کے اصل مقصدِ تخلیق کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ مگر دعوت صرف سچا پیغام پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ اسے پہنچانے کے طریقے، انداز اور ذرائع کی درستگی بھی اتنی ہی اہم حیثیت رکھتی ہے۔ جب ذرائع درست نہ ہوں تو پیغام کی تاثیر کم ہوجاتی ہے، اور دعوت کی وقعت بھی متاثر ہوتی ہے۔ جدید دور میں جب ابلاغ کے ذرائع نت نئے رنگوں اور چمک دمک کے ساتھ انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، تو داعیانِ حق کے سامنے یہ سوال شدت سے کھڑا ہوتا ہے کہ کیا دین کا پیغام ان ہی جدید رنگین طریقوں کے ذریعے پہنچایا جائے، یا پھر وہی راستے اختیار کئے جائیں جن کی شرعاً اجازت ہے اور جو دین کی عظمت کے شایانِ شان ہیں۔اس سوال کا جواب ہمارے اکابر نے نہایت واضح اور دوٹوک انداز میں دیا ہے۔ خصوصا ًعلامہ سید محمد یوسف بنوری ؒنے اس سلسلے میں ایک اصولی رہنمائی کو اپنا مستقل وظیفہ بنا رکھا تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ دعوت دینے والے کی ذمہ داری یہ نہیں کہ ہر وہ طریقہ اپنایا جائے جس سے لوگوں کی توجہ حاصل ہو جائے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ صرف وہی ذرائع اختیار کئے جائیں جو شریعت کے دائرے میں آتے ہوں، باوقار ہوں، اور جن کے ذریعے دین کی حرمت اور تقدس برقرار رہے۔ اگر جائز راستے سے ایک فرد تک بھی دعوت پہنچ جائے تو یہ حقیقی کامیابی ہے، مگر اگر ناجائز یا غیر مناسب ذرائع سے ہزاروں لوگ متاثر ہوجائیں تو ایسی کامیابی دین کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔یہ اصولی نصیحت دراصل اس زمانے کے اس رجحان کا رد ہے جس میں لوگوں کی پسند اور جدید معاشرتی ذوق کے نام پر ایسے راستے دعوت میں شامل کر لئے جاتے ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔
آج اگر کوئی یہ دلیل دے کہ لوگ صرف فلم، ڈرامہ، موسیقی، اسٹیج یا بصری تفریح کے ذریعے بات سمجھتے ہیں، اس لیے انہی راستوں سے دین کو پیش کرنا چاہیے، تو سوال یہ ہے کہ کل کے دن پھر کون سی حد باقی رہے گی؟ شریعت کا دائرہ محدود نہیں، مگر اس کی حدود ہیں۔ ان حدود کو دعوت کے نام پر نرم نہیں کیا جا سکتا۔ اکابر کا یہی موقف تھا کہ انسانی خواہشات کو معیار نہیں بنایا جا سکتا، دین کے اصول ہی ہر معیار کا فیصلہ کریں گے۔مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم لکھتے ہیں کہ علامہ بنوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری خطبے میں بھی اسی حقیقت کو بطور وصیت پیش کیا، گویا اپنے بعد آنے والے تمام داعیانِ دین کو متنبہ کر دیا کہ دین کی خدمت جذبات، خواہشات یا عوامی پسند کے تابع نہیں، بلکہ شریعت کے تابع ہے۔ ان کی یہ وصیت دراصل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دعوت دینا ایک مقدس ذمہ داری ہے، اور مقدس کام ہمیشہ پاکیزہ ذرائع ہی سے انجام دیا جاتا ہے۔اسلامی تاریخ اس اصول کی عملی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ صحابہ کرام نے جب اسلام کی روشنی دنیا کے کونے کونے تک پہنچائی تو ان کے ہاتھوں میں جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی، مگر ان کے کردار کی سچائی، ذرائع کی پاکیزگی اور دلوں کی اخلاص نے ایسے اثرات پیدا کیے کہ دنیا کا چہرہ بدل گیا۔ انہوں نے دعوت کو تجارت کا ذریعہ بنایا نہ شہرت کا وسیلہ، نہ جذباتی تماشے کا حصہ بنایا نہ تفریح کا عنوان۔ ان کی دعوت وقار، سنجیدگی، حکمت اور شریعت کے دائرے میں تھیاسی لیے اسے برکت بھی ملی اور اثر انگیزی بھی۔آج کے دور میں اگرچہ ذرائع بدل گئے ہیں، لیکن اصول نہیں بدلے۔
ہمارے ذرائعِ دعوت شریعت کے مطابق ہوں، یہ بات آج بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی چودہ صدیاں پہلے تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر جدید وسیلے کو ترک کر دیا جائے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کوئی بھی جدید وسیلہ اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک وہ اخلاقی، شرعی اور دعوتی وقار کے مطابق نہ ہو۔ دعوت وقتی تالیاں یا ظاہری کامیابی کا نام نہیں، یہ دلوں کی اصلاح اور ذہنوں کی تربیت کا عمل ہے، جو صرف پاکیزہ راستوں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ دعوت کے نام پر اگر دین کی حدود میں نرمی اختیار کی جائے تو ابتدا میں شائد لوگ متاثر ہوجائیں، مگر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دین خود کمزور پڑنے لگتا ہے۔ جب دین کے پیغام کو تفریح کے سانچے میں ڈھالا جاتا ہے تو پیغام کی عظمت متاثر ہوتی ہے اور اس کا تقدس ختم ہونے لگتا ہے۔ اسی لئے ہمارے اکابر ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ داعی وہی ہے جو خود بھی دین کے وقار کا پاس رکھے اور دعوت کے ذرائع بھی اسی وقار کی نمائندگی کریں۔آخرکار دعوت کا حسن یہی ہے کہ اسے سچائی، سنجیدگی، وقار اور شرعی حدود کے اندر رہ کر انجام دیا جائے۔ یہ راستہ شائد بظاہر مشکل محسوس ہو، مگر یہی وہ راستہ ہے جو دلوں میں پائیدار اثرات پیدا کرتا ہے۔ جدید دنیا کے فتنوں اور نظریاتی انتشار میں یہی طرزِ دعوت وہ چراغ ہے جو امت کے راستے روشن کر سکتا ہے۔ یہی اکابر کا راستہ تھا، اور یہی ہر دور کے داعی کے لئے کامیابی کی چابی ہے۔

یہ بھی پڑھیں