پاکستان اس وقت ایک ایسے اہم آبادیاتی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی 64 فیصد آبادی تیس برس سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک بڑھتی عمر کی آبادی کے باعث مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ہمارے پاس نوجوانوں کی ایک پوری نسل موجود ہے۔ اگر اسے درست سمت، معیاری تعلیم اور بہتر مواقع مل جائیں تو یہ چند ہی دہائیوں میں ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا سکتی ہے۔ لیکن یہ صلاحیت خود بخود کامیابی میں نہیں بدلتی۔ یہ تبھی کارآمد ثابت ہوگی جب ہم اپنے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، مثبت کردار اور امید سے مسلح کریں گے ورنہ یہی نسل مستقبل کا سنگین بحران بن سکتی ہے۔
ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بدقسمتی سے اب بھی پرانے طرز پر قائم ہے۔ رٹہ، بوجھل نصاب اور ایسے امتحانات جو سمجھ بوجھ کے بجائے صرف یادداشت پر انحصار کرتے ہیں۔ استاد کتاب مکمل کرانے تک محدود ہو چکا ہے اور طالب علم کی سمجھ، تنقیدی سوچ، دلیل دینے کی صلاحیت یا نئے حل تراشنے کی اہلیت کو جانچنے کا کوئی مؤثر پیمانہ موجود نہیں۔ نتیجتاً ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں تو لے لیتے ہیں، مگر جب عملی میدان میں جاتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ہوتا ہے کہ نہ مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ان کے پاس مہارت ہے اور نہ ہی اعتماد۔ اسی وجہ سے گریجویٹ بے روزگاری عام بے روزگاری سے کہیں زیادہ ہے اور ہزاروں نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود کم درجے کی ملازمتوں پر مجبور ہیں۔
دنیا نے تعلیم میں جس تیزی سے تبدیلیاں کی ہیں، ہم اس رفتار سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو ابتدائی سطح سے ہی مسئلہ حل کرنا، ٹیم ورک، تحقیق اور تجربات کی اہمیت سکھائی جاتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی اور کلائمیٹ ٹیکنالوجی جیسے شعبے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ جرمنی اور جنوبی کوریا نے اسکولوں کو صنعتوں کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جہاں طالب علم تھیوری کلاس میں پڑھتا ہے اور عملی تجربہ فیکٹری یا لیب میں حاصل کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے ووکیشنل اور ٹیکنیکل ادارے وسائل کی کمی، پرانے آلات اور معاشرتی تعصب کا شکار ہیں۔ ہم اب بھی کاریگر، ویلڈر، الیکٹریشن یا ٹیکنیشن کو کمتر سمجھتے ہیں، جبکہ آج کی دنیا میں یہی افراد بہترین تنخواہیں اور عزت حاصل کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل ماحول بھی ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ نوجوان سوشل میڈیا سے تو منسلک ہیں مگر تنقیدی شعور کے بغیر۔ منفی سوشل میڈیا ان کے جذبات کو بھڑکاتا ہے جبکہ فیک نیوز، سازشی نظریات اور نفرت انگیز مواد ذہنوں کو منتشر کر رہا ہے۔ دنیا نے میڈیا لٹریسی اور ڈیجیٹل شہریت کو نصاب کا لازمی حصہ بنا لیا ہے، مگر ہمارے ہاں یہ موضوع اب تک سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
اگر ہم حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظریے کو بدلنا ہوگا۔ نصاب کو رٹّے سے نکال کر تحقیق، پراجیکٹس، مباحثے اور عملی تربیت کی طرف لانا ہوگا۔ امتحانات کو محض یادداشت کا امتحان نہیں، بلکہ فہم، تخلیق اور ذہانت کا پیمانہ بنانا ہوگا۔ استاد کی حیثیت محض لیکچر دینے والے کی نہیں بلکہ رہنما کی ہونی چاہیے۔ تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان براہ راست رابطے قائم کرنے ہوں گے۔ علاوہ ازیں انٹرن شپ، اپرنٹس شپ اور مشترکہ منصوبے نصاب کا حصہ ہونا چاہئیں۔ ٹیکنیکل تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے اور مصنوعی ذہانت، گرین انرجی، روبوٹکس، ای کامرس اور فِن ٹیک جیسے شعبوں میں عالمی معیار کے ادارے قائم کیے جائیں۔
انگریزی زبان کو طبقاتی دیوار نہیں بلکہ عالمی رابطے کا ذریعہ سمجھ کر پڑھایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اردو اور علاقائی زبانوں میں معیاری سائنسی و تکنیکی مواد تیار کیا جائے تاکہ نوجوان اپنی تہذیبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے دنیا کے ساتھ قدم ملا سکیں۔ ڈیجیٹل اور میڈیا لٹریسی کو لازمی مضمون بنایا جائے تاکہ نوجوان فیک نیوز کا شکار نہ ہوں، اپنی پرائیویسی کا تحفظ کر سکیں اور سوشل میڈیا کو فری لانسنگ، آن لائن کاروبار اور ریموٹ ورک جیسے مثبت مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں۔ آخرکار پاکستان کا مستقبل کسی ایک ترقیاتی منصوبے، بجٹ تقریر یا سیاسی نعرے سے نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تعلیم، ہنر، کردار اور امید سے طے ہو گا۔ اگلے دس سے پندرہ سال اس لحاظ سے فیصلہ کن ہیں کہ ان میں یا تو یہ نوجوان قوم کو ایک جدید، باوقار اور خود مختار ریاست کی طرف لے جائیں گے یا پھر مایوسی، بے روزگاری اور بے سمتی کا شکار ہو کر خود سوالیہ نشان بن جائیں گے۔ فیصلہ ابھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس طاقت کو سنوارنے کے لیے جرات مندانہ اصلاحات کرتے ہیں یا پھر اقتدار کی رسہ کشی اور مفادات کی لڑائی میں تماشائی بن کر دیکھتے رہتے ہیں کہ کیسے ایک قیمتی موقع ہمارے ہاتھوں سے پھسل کر تاریخ کی ندی میں گم ہو جاتا ہے۔