بدحواسی کے عالم میں فرعون نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ اس صورت حال میں اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ درباری حضرات عموماً جی حضور کہنے اور بڑی سرکار کی ہاں میں ہاں ملانے کے عادی ہوتے ہیں اور اسی میں ان کی عافیت ہوتی ہے۔ فورا ًکہنے لگے۔ واقعی یہ بہت بڑا جادوگر ہے اور ہمیں جادو کا مقابلہ جادو ہی سے کرنا چاہیے۔ آپ یوں کیجئے کہ جلدی میں کچھ فیصلہ نہ کیجئے۔ بلکہ ملک بھر کے چوٹی کے جادوگروں کو اپنے ہاں بلا لیجئے جو اس کا مقابلہ کر سکیں۔ فرعون اپنے درباریوں سے ایسا ہی جواب سننا چاہتا تھا۔ کیونکہ وہ خود اپنے درباریوں اور اپنی رعایا کو اسی چکر میں ڈالنا اور یہی کچھ ذہن نشین کرانا چاہتا تھا کہ موسیٰ اور اس کا بھائی اللہ کے رسول نہیں بلکہ محض جادو گر ہیں۔ چنانچہ فرعون نے اپنے درباریوں سے مشورہ کے بعد تمام شہروں کے نامور جادوگروں کو اپنے ہاں طلب کر لیا۔
جادو گری کے اس مقابلہ کے لئے سید نا موسیٰ فورا تیار ہو گئے ۔ وقت کا تعین ابھی باقی تھا۔ موسیٰ نے خود ہی یہ تجویز کی کہ یہ مقابلہ بھرے مجمع میں ہونا چاہیے۔ اور اس کے لئے ان کے قومی میلہ یا جشن نوروز کا دن سب سے مناسب تھا۔ جبکہ اردگرد کے لوگ بھی اس قومی میلہ میں شرکت کے لئے دارالخلافہ جیسے بڑے شہر میں از خود پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس مقالہ کے لئے چاشت کا وقت تجویز ہوا تاکہ اس وقت تک اردگرد کے سب لوگ بھی دارالخلافہ میں پہنچ سکیں اور وقت بھی ایسا مناسب تجویز ہوا جس میں سورج کی روشنی میں پوری طرح کھل جاتی ہے اور دھوپ میں ابھی گرمی کی شدت بھی نہیں ہوتی۔ جب مقابلہ کے وقت کی تعین ہو گئی تو فرعون نے اپنے درباریوں سے اس انداز میں سوال کیا جیسے اس کی خوشی اسی بات میں تھی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس اجتماعی میں شریک ہوں۔
فرعون نے لوگوں کو اس اجتماع میں شمولیت کی عام دعوت اس امید پر دی تھی کہ چوٹی کے جادو گروں کی اتنی بڑی تعداد جمع ہو گئی پھر اعیان سلطنت بھی وہاں موجود ہوں گے تو ان کے دبدبہ اور رعب سے بھی موسیٰ مرعوب ہو کر رہ جائے گا۔ اپنی اس توقع کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ کہنے لگا کہ امید قومی یہی ہے کہ ہمارے جادوگر غالب آئیں گے۔ اس صورت میں ہمیں اپنے جادوگروں کا ساتھ دینا ہو گا تاکہ موسیٰ کی شکست اور مغلوبیت پوری طرح سب لوگوں پر کھل کر واضح ہو جائے۔ گویا وہ لوگوں کو تاثر یہ دینا چاہتا تھا کہ جب مقابلہ میں ہمارا پلہ بھاری رہے گا تو اس کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آجائے گا کہ ہمارا ہی دین درست ہے اور اس سے منحرف ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی اور اس فیصلہ میں ہماری خود غرضی کو کچھ دخل نہ ہو گا۔ بلکہ انصاف کا تقاضا ہی یہ ہے کہ جو غالب ہو اس کا ساتھ دیا جائے۔
مقررہ وقت سے پہلے جب تمام جادو گر اطراف و اکناف سے دارالخلافہ پہنچ گئے تو انہوں نے مل کر فرعون سے سوال کیا کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو ہمیں کچھ معاوضہ یا انعام و اکرام بھی ملے گا؟ جادوگروں کے اس سوال سے ان کی ذہنی سا منے آجاتی ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں۔ پیٹ کے دھندے کے طورپر کرتے ہیں۔ اس سے بلند ان کا کوئی مطمح نظر ہوتا ہی نہیں۔ جبکہ نبی لوگوں کے معاوضہ سے مطلقاً بے نیاز ہوتا ہے وہ بے لوث ہو کر محض اللہ کی رضا مندی کی خاطر اپنا فریضہ سرا نجام ہوتا ہے۔ فرعون کی اس وقت جان پر بنی ہوئی تھی۔ جادوگروں کے اس سوال پر فوراً کہنے لگا۔ محض انعام و کرام کی کیا بات کرتے ہو اگر تم کامیاب ہو گئے میں انعام و اکرام کے بدلہ تمہیں بلند مناصب بھی دوں گا اور تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔
فرعون نے اس جواب پر جادو گر سے بہت خوش ہو گئے۔ میدان مقابلہ میں آئے تو موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کے عام دستور کے مطابق پوچھا ‘ پہلے آپ اپنا شعبدہ دکھائو گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہ جواب محض رسماً یا رواجا ً یا ان کی عزت افزائی کے طورپر نہیں دیا بلکہ آپ چاہتے ہی یہ تھے کہ باطل پوری طرح پہلے اپنا مظاہرہ کر لے۔ اس کے بعد ہی حق کی فتح پوری طرح واضح ہو سکے گی۔ جادو گروں کو فرعون کے اہل کاروں کی طرف سے صرف یہ بتایا گیا کہ دارالخلافہ میں بادشاہ سلامت کے ہاں دو جادوگر آئے ہیں۔ ان میں سے ایک اپنی لاٹھی پھینکتا ہے تو وہ سانپ بن جاتا ہے اور یہی ان کے پاس سب سے بڑا شعبدہ ہے اور تم لوگوں کو بادشاہ سلامت نے ان کے مقابلہ کے لئے بلایا ہے۔ لہذا ان لوگوں نے اسی خاص پہلو میں اپنی تیاریاں کی تھیں۔ انہوں نے کچھ اپنی لاٹھیاں پھینکیں اور کچھ رسیاں پھینکیں جو لوگوں خو جیتے جاگتے متحرک سانپ نظر آنے لگے۔ اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ سارا میدان مقابلہ ایسے سانپوں سے بھر گیا تھا سارا مجمع اس منظر سے دہشت زدہ ہونے لگا۔ حتی کہ سید نا موسیٰ بھی دل ہی دل میں ڈرنے لگے۔ یہ منظر جادو گروں کے لئے بڑا خوش کن تھا اور انہیں یقین تھا کہ ان کے اس کرشمہ کا کوئی مقابلہ نہیںہو سکتا۔ چنانچہ اسی خوشی میں انہوں نے زور سے نعرہ مارا ’’فرعون کی جے ‘ یقینا ہم ہی جیتیں گے۔’’اللہ تعالیٰ نے سید نا موسیٰ علیہ السلام کو فوراً وحی کی کہ ڈرو نہیں بس اپنا عصا ڈال دو۔ چنانچہ آپ نے عصا ڈالا تو وہ صرف حرکت ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ جادو گروں کے بنائے ہوئے تمام سانپوں کو اپنا لقمہ بھی بنائے جارہا تھا حتی کہ اس نے ایسے تمام بناوٹی سانپوں کو اپنا لقمہ بنایا کہ میدان سانپوں سے صاف ہو گیا۔ بھرے مجمع میں اس مقابلہ میں فرعون کو شکست ہوئی پھر موسیٰ علیہ السلام نے عصا کو ہاتھ میں لیا تو پھر وہ عصا بن گیا۔
فرعون کی جے پکارنے والے جادو گروں نے جب دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے بنا ہوا سانپ ان کے سانپ کو ہڑپ کر رہا ہے تو انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یہ جادو کے فن سے ماورا کوئی اور چیز ہے۔ وہ کوئی معمولی قسم کے جادو گر نہ تھے۔ بلکہ ملک بھر کے چوٹی کے ماہر اور نامور جادو گر تھے۔ لہٰذا جب ان کے بنائے ہوئے سب سانپ میدان مقابلہ سے ختم ہوگئے تو انہوںنے اپنی شکست کا برملا اعتراف کر لیا پھر اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اسی بھرے مجمع میں رب العالمین پر ایمان لانے کا قرار کیا اور یہ بھی ساتھ ہی وضاحت کر دی کہ رب سے مراد ہماری مراد فرعون نہیں بلکہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ پروردگار ہے جو ہر چیز کا پرورش کندہ ہے اور جس کی طرف موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام دعوت دے رہے ہیں۔
فرعون ایک تو بھرے مجمع میں اپنی واضح شکست دیکھ چکا تھا۔ یہ رنج ابھی تازہ ہی تھا کہ اوپر سے اس کے جادوگروں نے سید ناموسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی رسالت کا اور اپنے ایمان لانے کا قرار کر لیا تو وہ اس دوہرے صدمہ سے سیخ پا ہو گیا۔ اسے خطرہ یہ تھا کہ اب یہ سارا مجمع اور اس کے بعد اس کی قوم بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر ایمان لے آئیں گے۔ لہٰذا اب وہ تشدد پر اتر آیا۔ وہ مقابلہ سے پہلے اپنے اس اقرار کو بھی بھول گیا جو وہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں جادوگروں کا ہی ساتھ دینا پڑے گا۔ فوراً ایک تجویز اس کے ذہن میں آئی اور اس نے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ یہ جادو گر تو پہلے ہی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ وہ ان کا استاد تھا اور یہ اس کے چیلے تھے۔ ان دونوں نے مل کر مجھے اس انجام تک پہنچایا ہے اور اس کی دلیل یہ پیش کی کہ شکست کے بعد جادوگروں نے مجھے پوچھا تک نہیں نہ مجھ سے مشورہ کیا۔ جادو گر میرے تھے اور مل گئے۔ (موسیٰ علیہ السلام)سے اب ان کی اس فریب کاری کی میں انہیں پوری پوری سزا دوں گا اور ایسی سزاد وں گا جس سے باقی لوگوں کو ایسی حرکت کرنے کی جرات تک نہ ہو سکے۔
مقابلہ سے پہلے جادو گروں کی یہ حالت تھی کہ وہ فرعون سے انعام و اکرام حاصل کرنے کے لئے التجا کر رہے تھے لیکن جب وہ علی وجہ البصیرت صدق دل سے ایمان لے آئے تو ان کے ذہن میں یک لخت انقلاب آگیا۔ جیسے یکدم کسی کی آنکھیں کھل جائیں۔ ان کے ایمان نے ان میں اتنی جرات پیدا کر دی تھی کہ اب وہ اسی جابر اور طالم فرعون کی سولی کی دھمکی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے تھے وہ یک زبان ہو کر بول اٹھے تم جتنا برا سلوک ہم سے کر سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ زیادہ سے زیادہ تم ہمیں مار ہی سکتے ہو۔ اس سے زیادہ تو ہمارا کچھ بگاڑ سکو گے مگر ہمیں جو دولت ایمان میسر آئی ہے وہ ان تکلیفوں کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر ہے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری سابقہ زندگی کی خطائوں اور لغزشوں کو معاف فرمائے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس معرکہ حق و باطل میں جادوگروں کی شکست کے بعد جس طرح جادو گروں ایمان لائے تھے۔
(جاری ہے)