Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

کشمیریوں کی حمایت ہمارااخلاقی فرض،مشترکہ ذمہ داری

اسلام آباد میں وائس آف جسٹس ان کشمیر کے زیراہتمام ایک کانفرنس کے مقررین نے کہاہےکہ کشمیر کازکی حمایت محض ہمدردی نہیں بلکہ ہرایک کا اخلاقی فرض اور مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کانفرنس میں سفارت کاروں، سیاست دانوں، ماہرین تعلیم، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلباکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت دلانے کے لیے پائیدار عالمی وکالت ناگزیر ہے۔
وائس آف جسٹس ان کشمیرکے ڈائریکٹر کمیونٹی انگیجمنٹ سردار زبیرخان نے کہا کہ تنظیم بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کےچارٹر کے تحت تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیےکام کرتی رہےگی۔ انہوں نے کہاکہ تنظیم کا مقصد مظلوم کشمیریوں کےلئے آواز بلندکرنا، پالیسی سازوں پر اثر انداز ہونا اور دنیا میں کشمیری اور جنوب ایشیائی کمیونٹیز کو مربوط وکالت کے لیے متحد کرناہے۔ وائس آف جسٹس ان کشمیرکے انٹرنیشنل ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور تقریب کے میزبان پروفیسر وارث علی خان نےکہا کہ تنظیم کامشن حکومتوں، تھنک ٹینکس،سول سوسائٹی اوربین الاقوامی میڈیامیں کشمیریوں کےبنیادی سیاسی حقوق کا دفاع کرنا ہے۔تنظیم کے ڈائریکٹر گورنمنٹ افیئرزسردارذوالفقارروشن خان نےکہاکہ یہ تنظیم ایک ایسی دنیا چاہتی ہے جہاں کشمیری عزت اور انصاف کے ساتھ رہ سکیں اور آزادانہ طور پر جمہوری طریقےسے اپنے مستقبل کا تعین کرسکیں۔
تنظیم کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی سردار ظریف خان نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا کہ یہ گروپ عالمی فیصلہ سازوں کو آگاہ کرنے کے لیے شواہد پر مبنی رپورٹس، پالیسی بریف اور سیمینارز کا انعقاد کرے گا۔ڈائریکٹر میڈیا ریلیشنز محمد ندیم کھوکھرنے کہاکہ تنظیم مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کواجاگرکرنےکے لیے کانفرنسیں ، میڈیا مہمات اور ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے انسانی حقوق کے گروپوں، یونیورسٹیوں اور میڈیا نیٹ ورکس کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ کھڑا ہونا ایک اخلاقی ذمہ داری اور مقدس امانت ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تشویش کو عملی کارروائی اور غیر متزلزل عزم میں تبدیل کریں۔آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سفارت کار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ بھارتی جبر کی وجہ سے آواز نہیں اٹھا سکتے، انہوں نے کہا کہ جب سچ جرم بن جائے تو خاموشی بقا بن جاتی ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور صدر سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ اس کانفرنس نے اتحاد اور ذمہ داری کا ایک شعلہ روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسے تالیوں سے ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا آغاز عمل سے ہونا چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیرڈاکٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ متنوع سامعین اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاسی یا نظریاتی اختلافات کے باوجود کشمیر کاز تمام لوگوں کو متحد کرتا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا کہ اگر مقبوضہ علاقے میں مظلوم کشمیریوں کو خاموش کرایا جاتا ہے تو آزاد کشمیر کے عوام کو ان کی آواز بننا چاہیے۔مرسی یونیورسل کے چیئرمین نذیر احمد قریشی نے کہا کہ کشمیرمیں مظالم پر خاموشی اختیارنہیں کرنی چاہیے۔ سابق امیر جماعت اسلامی آزادکشمیرعبدالرشید ترابی نے شرکا پر زور دیا کہ وہ کانفرنس کے پیغام کو اپنے اداروں اور برادریوں تک پہنچائیں۔ترکی کے بین الاقوامی امور کے معروف اسکالر پروفیسر سمیع العریان نے کہا کہ اتحاد کو قبضے کی زنجیروں سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے اور مراعات یافتہ آوازوں کو امید کا دفاع کرنا چاہیے۔ممتاز ترک صحافی مہمت اوزترک نے کہا کہ تاریخ ان لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیر کا آسمان آزادی سے روشن نہیں ہو جاتا۔
پاکستان کے خلاف بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان پر کینیڈا میں سکھوں نے بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مودی حکومت کیخلاف اور خالصتان کے حق میں نعرے لگائے۔ سکھ رہنمائوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راج ناتھ سنگھ پاکستان کے صوبہ سندھ سے متعلق بیان دینے کے بجائے بھارت کی فکر کریں جو بہت جلد کئی ٹکڑوں میں بکھرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب بہت جلد بھارت سے الگ ہوکر خالصتان کی ریاست بنے گا جہاں تمام قومیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔
دریں اثناء برطانیہ میں مقیم کشمیری کاروباری رہنما چوہدری محمد خالد نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کی بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل گرفتاریوں، گھروں پر چھاپوں اور دیگر مظالم میں اضافے سے خطے کا امن مزید غیر مستحکم ہوسکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ پہلگام کے مشکوک واقعے کے بعد بھارتی فورسز کی طرف سے ظلم و جبر خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کالے قانون یواے پی اے کے تحت ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری، نظربندی، تشدد، نظر بندوں کی اپنے اہل خانہ اور وکلا تک رسائی سے انکار، گھروں کی مسماری، جبری بے دخلی، مواصلاتی بلیک آئوٹ اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندیاں یہ سب بھارت کے ریاستی جبر کی بدترین مثالیں ہیں۔انہوں نے خاص طور پر دہلی دھماکے میں ایک کشمیری کو پھنسانے کی بھارت کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک اور خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جھوٹے مقدمات، من گھڑت الزامات اور پروپیگنڈے کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور کشمیریوں کی جائزجدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چوہدری محمد خالد نےان کارروائیوں کو کھلی ریاستی دہشت گردی اور کشمیری عوام کی اجتماعی سزا قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات،جبری نظربندیوں اور گھروں کی مسماری کا مقصد کشمیریوں کو خاموش کرانا اور حق خودارادیت کے لئے ان کی تحریک کو کمزور کرنا ہے لیکن بھارت ظلم و جبر کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچل نہیں سکتا۔انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پرزوردیا کہ وہ بھارت کے مجرمانہ اقدامات کے خلاف فوری کارروائی کریں، قابض بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی کمیشن قائم کریں اور کشمیریوں کو تحفظ فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیں