Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

بدزبانی،دجالی میڈیا اور مفتی تقی عثمانی

اختلاف انسانی معاشرت کا فطری حصہ ہے، مگر جب یہی اختلاف تہذیب، شرافت اور حسنِ اخلاق کی حدود پھلانگ جائے تو پھر وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے ذاتی عناد، بدزبانی اور بدگمانی میں بدلنے لگا ہے۔ زبانیں زہر آلود ہیں، دل شکوک و شبہات سے بھرے ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا اس آگ پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ علم، دین، سیاست اور فکرہر میدان میں دلیل کی جگہ گالی، اور حکمت کی جگہ الزام نے لے لی ہے۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں جب اکابرِ امت کے وقار کو بھی پامال کیا جا رہا ہو، تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ انہی تشویش ناک حالات میں شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا درد مندانہ خطاب ہمارے لیے محض ایک نصیحت نہیں بلکہ آئینہ ہے، جس میں ہم اپنی اخلاقی زبوں حالی کو صاف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ مضمون اسی آئینے میں جھانکنے اور اختلاف کو دشمنی بننے سے بچانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی نے جمعہ کے خطاب میں جو ’’درد دل‘‘ بیان فرمایا اس میں فیس بکیوں ،یوٹیوبر مفتیوں، مولویوں، دانشوروں، صحافیوں،ا ینکرز، اینکرنیوں، حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ، سیاست دانوں، جہلمیوں، مماتیوں، حیاتیوں بلکہ میرے اور آپ سمیت پوری قوم کے ایک ایک فرد کے لیے درس عبرت موجود ہے، کاش اے کاش کہ ہم اس سے سبق حاصل کر سکیں،دجالی میڈیا جس میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سر فہرست ہے کہ وجہ سے ہمارا معاشرہ اس قدر بدبودار اور پراگندہ ہو چکا ہے کہ اب کسی بزرگ کی بھی عزت محفوظ نہیں رہی،یہاں قادیانی لابی، لبرل سیکولر اور ملحد شدت پسندوں کا شکوہ کیا کریں؟ صورت حال اس قدر دگرگوں ہو چکی ہے کہ مذہب پسند بلکہ مولوی حضرات بھی ایک دوسرے کے بزرگوں کو گالیاں بکنا،اکابرین کی پگڑیاں اچھالنا ثواب سمجھتے ہیں، سوشل میڈیا ایجاد کرنے والے صیہونیوں نے تو کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ ان کی یہ ایجادات مسلمانوں کے اخلاق و کردار اور تہذیب وتمدن کے خلاف ایٹم بموں سے بھی بڑھ کر مہلک ثابت ہوں گی،سوشل میڈیا کی اس سے بڑھ کر بدنمائی اور نسل نو کی گمراہی کی اور مثال کیا پیش کروں کہ اب تک ساڑھے چار سو سے زائد مقدس ترین ہستیوں کے بدترین اور غلیظ ترین گستاخ گرفتار ہو چکے ہیں،سوشل میڈیا نے علما ء،صلحا،اولیا،اصفیا،اتقیا کو گالیاں بکنا،ان کی توہین کرنا ممکن بنا دیا،ایسے لگتا ہے کہ جیسے ’’ابلیس‘‘ دجالی میڈیا پہ الف ننگا ہو چکا ہو۔
ایسے نازک حالات میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کا یہ فرمانا آب زر سے لکھنے کے قابل ہے،وہ فرماتے ہیں کہ ’’آج اگر ہمیں کسی سے اختلاف ہو جائے تو ہم گالم گلوچ تک بہت جلدی پہنچ جاتے ہیں‘چاہے اختلاف فقہی ہو‘مسلکی ہو یا سیاسی ہو,‘لیکن بحث بدزبانی اور بدگمانی پر مبنی ہوتی ہے، ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیا ء کرام میں سے کسی نے بھی مخالف سے بدتمیزی سے بات نہیں کی، چاہے وہ فرعون جیسا بڑا گمراہ مخالف ہی کیوں نہ ہو، جس نے خدائی کا دعویٰ تک کیا تھا، حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ھارون علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرعون کے پاس بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ اس سے بات نرمی سے کرو اگر مسلکی بات کی جائے تو وہ بھی ہم اختلاف رکھتے ہیں، لیکن وہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتی ہاں مقابل کی دلیل کمزور ہو تو ہم اسے کہتے ہیں کہ آپ کی یہ دلیل ہم نہیں مانتے، کمزور دلیل ہے ۔
اختلاف رائے ہونا چاہئے کسی کا نام بگاڑنے یا الٹے سیدھے ناموں سے پکارنے کی اجازت نہ قرآن دیتا ہے، نہ حدیث اس کی اجازت دیتی ہے ،انہوں نے کہا کہ نہایت افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ اب اہل علم و عمل اور ہمارے اہل حق ساتھی بھی اس زبان کے عادی ہورہے ہیں، خدارا اس لب ولہجے سے تفرقے مت ڈالو، امت کو وحدت کی ضرورت ہے، نفرت کی نہیں، یہ جو بدزبانی اور بدگمانی والا راستہ ہے یہ تباہی والا راستہ ہے ،کوئی آپ کو گالم گلوج کرے بدگمانی کرے تو آپ کا یہ حق بنتا ہے کہ آپ احسن طریقے سے اس سے بات کریں، ناکہ اسی کے لہجے میں پیش آئیں۔ میرے والد صاحب رحمہ اللہ دو چیزوں سے بہت زیادہ منع فرماتے تھے کہ اختلاف میں بدزبانی اور بدگمانی دونوں سے بچ کے رہو ان شااللہ کامیاب رہوگے۔
آخر میں یہ حقیقت پوری شدت سے ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے کہ اگر ہم نے اختلاف کے آداب نہ سیکھے تو نہ دین محفوظ رہے گا، نہ علم کا وقار اور نہ ہی معاشرے کی اخلاقی بنیادیں۔ بدزبانی اور بدگمانی وہ زہر ہیں جو دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑ دیتے ہیں اور حق کی دعوت کو خود ہمارے ہاتھوں کمزور کر دیتے ہیں۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کا پیغام دراصل ہمیں سیرتِ انبیا کی طرف واپس بلاتا ہے، جہاں اختلاف بھی تھا مگر شرافت، نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی حق کے داعی ہیں یا محض اپنی انا، گروہ اور مسلک کے محافظ بن کر رہ گئے ہیں؟ اگر ہماری زبان سے گالی نکلتی ہے، قلم سے الزام ٹپکتا ہے اور نیت میں بدگمانی پلتی ہے تو یہ حق کی خدمت نہیں بلکہ اس کی بدترین توہین ہے۔ آج امت کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ دلیل کے ساتھ حلم، اختلاف کے ساتھ احترام اور اصلاح کے ساتھ اخلاص ہے۔ اگر ہم نے اپنے لب و لہجے، طرزِ فکر اور اندازِ گفتگو کو درست نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ آئیے عہد کریں کہ اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے، بدگمانی کے بجائے حسنِ ظن اپنائیں گے اور بدزبانی کے مقابلے میں خاموش وقار اور احسن اسلوب کو اپنا شعار بنائیں گے، یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں