جہادی فتویٰ غامدی، موم بتی مافیا میں صف ماتم
کشمیر سے فلسطین تک، ہنود و یہود مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں،مسلمانوں کی عورتوں اور بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کی مسجدوں ، سکولوں، کالجوں، مدرسوں، ہسپتالوں، اور گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے،56
کشمیر سے فلسطین تک، ہنود و یہود مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں،مسلمانوں کی عورتوں اور بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کی مسجدوں ، سکولوں، کالجوں، مدرسوں، ہسپتالوں، اور گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے،56
پرویزی بوائے فواد چوہدری کی ٹوئٹ ’’آج جن مولوی صاحبان نے اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے وہ انتہائی صائب اور وقت کی ضرورت ہے، اس اعلیٰ و ارفع مقصد کے لئے میں نے قصد کیا ہے کہ
(گزشتہ سے پیوستہ) رحمت ہی رحمت ہوتی ہے سکون و اطمینان نصیب ہو جاتاہے اور قرآن سے روگردانی کر نے والے اپنے اوپر ظلم کرنے والے ، ان کا تو نقصان بڑھتا ہی جاتا ہے۔ پس قرآن ہدایت کے لئے
(گزشتہ سے پیوستہ) فرشتوں کا سردار اور فرشتوں میں نہایت امانت دار ہے ۔جس پر یہ کتاب نازل ہو ئی اس کو فرشتے سے لینے کی روحانی قوت اور انسانوںکو دینے سکھانے کی مادی صلاحیت سے پو ری طرح نوازاگیا
اللہ وحد ہ، لاشریک نے انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اپنے رسولوں کے ساتھ اپنی کتابیں بھی بھیجیں کہ رسول ان کتابوں کے ذریعہ اپنی اپنی امتوںکو دنیا میں زندگی بسر کر نے کے طریقے سکھائیں۔ ایسے کاموں
کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن سمیت پاکستانی قوم کے دل مظلوم فلسطینیوں کے دلوں کے ساتھ دھڑک رہے ہیں،اگر آج کوئی فلسطینی مسلمانوں تک پہنچنے کے راستے کھول دے ،تو اس قوم کے ہزاروں بیٹے اسرائیلی خناسوں کو
(گزشتہ سے پیوستہ) اے ایمان والو!ان کافروں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا جب وہ سفر میں یا جہادمیں گئے کہ اگریہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے ۔
صیہونی ،صلیبی مظالم کے ساتھ ساتھ 56 اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی بے وفائی کا شکار ’’غزہ‘‘ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سمیت عزیمت واستقامت کا پہاڑ بنا تادم تحریر تنہا کھڑا ہے،اہل غزہ کی جرات و بہادری اور قربانی کی
طاقت کے استعمال سے مسائل کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے مگر مستقل حل نہیں کیا جاسکتا ،اب کے پی کے اور بلوچستان کو ہی لے لیجئے ،دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر وہاں بار بار
جب لوگوں کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ ریاست کسی قوم کے فائدے کے لئے نہیں،بلکہ اشرافیہ کے فائدے کے لئے چلائی جاتی ہے،تو فرد قوم کی خاطر قربانی دینے سے قاصر ہو جاتا ہے،اور اپنے مفادات کی تلاش