ٹرمپ ٹارگٹ ، ایران کے بعد شمالی کوریا ؟
کیا ایران کے بعد امریکہ کا اگلا ٹارگٹ شمالی کوریا ہے؟ یہ سوال ایران پر امریکی حملے کے فورا بعد عالمی سطح پر شدت سے زیرِ بحث آ رہا ہے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری نے مشرق وسطی
کیا ایران کے بعد امریکہ کا اگلا ٹارگٹ شمالی کوریا ہے؟ یہ سوال ایران پر امریکی حملے کے فورا بعد عالمی سطح پر شدت سے زیرِ بحث آ رہا ہے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری نے مشرق وسطی
جس طرح کسی زمانے میں ’’کہوٹہ کہوٹہ‘‘ ہوا کرتی تھی، آج کل دنیا بھر میں ’’فردو فردو‘‘ ہو رہی ہے، وجہ اس کی ایران کا فردو ایٹمی پلانٹ ہے جہاں یورینیم کی افزودگی کی جا رہی تھی اور امریکہ، اسرائیل
پاکستان تحریکِ انصاف اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشیدگی کسی ایک دن کی پیداوار نہیں، مگر حالیہ دنوں میں امریکہ سے آئے ایک مخصوص وفد کی ناکام ثالثی کی کوشش نے اس ڈیڈ لاک کی گہرائی اور پیچیدگی کو
(گزشتہ سے پیوستہ) چین کی طرف سے پی ایل 17کو اگرچہ بنیادی طور پر J-20جیسے بڑے طیارے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ کچھ سافٹ ویئر اور ساختی تبدیلیوں کے ساتھ اسے J-10C اور
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ میزائل پہلے سے چین کے J-20 “Mighty Dragon” میں محدود پیمانے پر شامل کیا جا چکا ہے اور اب J-10C کے ساتھ بھی آزمائش کے مراحل سے گزر رہا ہے، جو کہ پاکستان کے زیر استعمال
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جب سے فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالا ہے بھارت میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے، خوف و ہراس کی اس کیفیت میں اس وقت بدترین صورتحال پیدا ہو گئی کہ جب بھارت کو یہ اطلاع
دنیا ایک ایسے دو رستوں پر چل رہی ہے جہاں ایک طرف امارت کے محل بلند ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف فاقہ کشی کےقبرستان پھیلتے جا رہے ہیں۔ کچھ انسانوں کے لیے ہر دن ایک نئی کامیابی کی نوید
بھارتی پائلٹس اور ایروناٹیکل انجینئرز کی نااہلی نے پہلے روس کے سخوئی اور مگ طیاروں کی عالمی مارکیٹ کا بھٹہ بٹھایا، اور اب ان کی نااہلی، ہڈ حرامی اور نحوست کے سائے فرانس کے اسٹیٹ آف دی آرٹ لڑاکا طیارے
پاکستان حالیہ دنوں میں بھارتی جارحیت کی زد میں ہے۔ دو روز سے جاری حملے اور سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت خطے کی صورتحال کو خطرناک بنا رہی ہے۔ بھارتی میڈیا اور عسکری حلقوں کی جانب
پنجاب اورسندھ سے آج کل آٹااورگندم کی خیبرپختونخوا اوربلوچستان کے راستے افغانستان کو اسمگلنگ کا دھندہ عروج پر ہےاور ہرہفتے اربوں روپےمالیت کا آٹا اور گندم افغانستان، ایران اور سینٹرل ایشیاء کےممالک میں بھجوایاجا رہا ہے، گھوسٹ سیڈکمپنیوں اور فلور