Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے حملے جاری، امریکی اور اسرائیلی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کے پاسداران انقلاب کے حملے

ایران کے پاسداران انقلاب کے حملے بدھ کے روز بھی جاری رہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جب تک ایران کے خلاف جنگ کا خطرہ ختم نہیں ہوتا کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ایرانی بیان کے مطابق دشمن کی مکمل شکست تک مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔

امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پاسداران انقلاب کے مطابق حملوں کی تازہ لہر میں کویت میں امریکی العدیری فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کے بعد سو سے زائد فوجیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایران نے بحرین کی مینا سلمان بندرگاہ، جہاں امریکی پانچواں بحری بیڑا موجود ہے، پر بھی حملے کا دعویٰ کیا۔

اس کے علاوہ کویت کے علی السالم فضائی اڈے اور محمد الاحمد بحری اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے

ایران کے پاسداران انقلاب کے حملے آبنائے ہرمز تک پہنچ گئے۔ ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ دو جہازوں کو خبردار کرنے کے باوجود گزرنے کی کوشش پر نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق “ایکسپریس روم” اور “میوری ناری بینکاک” نامی جہازوں پر میزائل داغے گئے۔

ایران نے کہا کہ امریکہ یا اسرائیل کے مفاد میں تیل کی ترسیل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔

کشیدگی کا آغاز کیسے ہوا

یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں پر حملے کیے۔

ان حملوں میں سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی فوجی کمانڈر مارے گئے تھے۔

اس کے بعد ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

عالمی تشویش میں اضافہ

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے رابطہ کر کے حملوں کی مذمت کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے اہم راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں