ایران میں لا ریجانی کے قتل کے بعد نیا سکیورٹی سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ایرانی حکومت نے محمد باقر ذوالقدر کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سیکرٹری مقرر کیا ہے۔ یہ فیصلہ اہم سیاسی شخصیت علی لا ریجانی کی ہلاکت کے بعد کیا گیا۔
دوسری جانب تل ابیب کے مختلف علاقوں میں ایرانی میزائل گرے، جس سے عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ممکنہ معاہدے پر غور ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران امن چاہتا ہے۔
لیکن تہران نے ان دعووں کو مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور یہ خبریں جھوٹی ہیں۔
ادھر امریکی فوجی کمان نے کہا ہے کہ ایران میں اہداف پر حملے جاری ہیں۔ جبکہ ایران نے خلیجی ممالک بحرین، سعودی عرب اور کویت کی جانب بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نیا سکیورٹی سربراہ مقرر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اندرونی اور بیرونی صورتحال کے لیے تیار ہو رہا ہے۔
