لبنان (اوصاف نیوز)حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایک طویل وقفے کے بعد اسرائیل کو خبر دار کیا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو حزب اللہ کے میزائل اسرائیل میں پہنچیں گے۔ حزب اللہ سربراہ کا یہ بیان منگل کے روز ان کے ایک ٹی وی خطاب کی صورت سامنے آیا ہے۔
انہوں نے اپنا یہ ٹی وی خطاب اس وقت کیا ہے جب امریکی دباؤ پر لبنان کی کابینہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے غور کرنے کی تیاری میں تھی۔
لبنانی کابینہ کو خوف ہے کہ اگر اس نے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ سے ہتھیار واپس نہ لیے تو اسرائیل کی لبنان پر بمباری کا پھر خطرہ ہو گا۔ لبنانی کابینہ کا اس سلسلے میں امریکی مطالبے پر اجلاس ہو بھی چکا ہے۔
نعیم قاسم نے کہا اگر اسرائیل نے اگر لبنانی حزب اللہ پر کوئی بڑی جارحیت مسلط کی تو لبنانی فوج اور عوام اپنا دفاع کریں گے۔
اس دفاع کے لیے میزائلوں کو اسرائیل کے اندر تک داغا جائے گا اور اسرائیل نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے بعد سے جو تیاریوں کی ہیں وہ سب ان میزائلوں کے سامنے دھری کی دھری رہ جائیں گی۔
یاد رہے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کرانے میں امریکہ نے اہم۔کردارچادا کیا تھا اور 27 نومبر 2024 کو ہہ جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔
اس سے پہلے اسرائیل کی بد ترین بمباری میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور اعلی قیادت سمیت تقریبآ پانچ ہزار لبنانی ہلاک ہو گئے تھے۔
نعیم قاسم نے کہا ہمارے پانچ ہزار لوگ مارے گئے اور تیرہ ہزار زخمی کر دیے گئے مگر حزب اللہ اسرائیلی جارحیت کے جواب اور قربانیوں کے لیے تیار ہے۔
اس خطاب سے محض چند منٹ بعد حزب اللہ کے پرچم تھامے حزب اللہ کے ارکان کا ایک موٹر سائیکلوں پر سوار دستہ جنوبی بیروت کے علاقے میں سڑکوں پر نظر ایا تھا۔
ادھر لبنانی حکومت امریکی روڈ میپ پر ماہ جون سے امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہے تاکہ حزب اللہ کو اسرائیل اور امریکہ کی خواہش کے مطابق غیر مسلح کر دیا جائے اور لبنان کو اسرائیلی بمباری سے بچایا جا سکے۔نیز اسرائیلی فوج لبنانی علاقے خالی کر کے واپس چلی جائے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب امریکی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے امریکہ نے مطالبہ کیا تھا کہ لبنانی کابینہ اس سلسلے میں عوامی سطح پر وعدہ کرے ۔تاکہ امریکہ کولبنان کی سنجیدگی کا اندازہ ہو سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:
