Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کا موقف مسترد کر دیا

لاہور(‌اوصاف نیوز)‌لاہور ہائی کورٹ نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کا موقف مسترد کرتے ہوئے پرائیویٹ سیکٹر کی تشخیصی لیبارٹریز اور صحت کے اداروں کی جانب سے خدمات کی قیمت مقرر کرنے کا حتمی اختیار پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو دے دیا۔

عدالت نے کہا ہے کہ یہ اختیار اس کمیشن کو 2010 کے ایکٹ کے تحت پہلے سے موجود ہے، پنجاب میں تشخیصی لیبارٹریز اور ہیلتھ سروسز فراہم کرنے والے اپنے اخراجات پر 20 فیصد سے زیادہ منافع وصول نہیں کر سکتے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس اس معاوضے کی منظوری کا حتمی اختیار ہے جو یہ ادارے یا لیبارٹریز اپنی خدمات کے لیے طے کرتے ہیں۔

جسٹس راحیل کامران نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ صحت کی خدمات کو تجارتی سامان نہیں سمجھا جا سکتا، صحت کی خدمات کا براہ راست تعلق انسان کے جینے کے حق سے ہے جس کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معیاری طبی امداد سے انکار مہذب معاشرے کی بنیادی خصوصیات کی نفی کرتا ہے۔ ریاست کو صحت کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات کی نگرانی کا بھی اختیار ہے۔ مانیٹرنگ اس طرح کی جائے کہ کوئی غیر قانونی منافع کما کر عوام کا استحصال نہ کر سکے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنے والا کوئی بھی ادارہ اپنی خدمات کی قیمت طے کر سکتا ہے لیکن یہ قیمت صرف ایک سرٹیفائیڈ چارٹرڈ یا کاسٹ اکاؤنٹنگ فرم ہی طے کر سکتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صحت کے شعبے میں خدمات کی اصل قیمت پر 20 فیصد سے زیادہ منافع نہیں لیا جا سکتا۔ ان خدمات کے لیے جو بھی قیمت مقرر کی گئی ہے وہ ہیلتھ کیئر کمیشن کو جمع کرائی جائے، جسے اس کی حتمی قیمت طے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
مزید پڑھیں‌:پاک افغان کے مابین مذاکرات بارے بڑی پیش رفت سامنے آگئی!

یہ بھی پڑھیں