Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

استنبول مذاکرات ناکام! پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

استنبول (‌اوصاف نیوز) پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مذاکرات میں ثالثی کرنے پر ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کو کنٹرول کرنا افغانستان کی ذمہ داری ہے۔

عطاتارڑ ے مطابق، افغان طالبان اب تک دوحہ امن معاہدے 2021 کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ افغان طالبان معاہدے کے مطابق بین الاقوامی، علاقائی اور دو طرفہ وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کی افغان عوام کے ساتھ خیرسگالی ہے۔ پاکستان افغان عوام کے پرامن مستقبل کا خواہاں ہے تاہم طالبان حکومت کے کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جو افغان عوام اور پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہو۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے عوام اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔

پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات پاکستانی وفد نے افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے ٹھوس شواہد اور منطقی مطالبات ثالثوں کے حوالے کر دیئے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وفد نے افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے ٹھوس شواہد اور مطالبات ثالثوں کے حوالے کئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

ثالثوں نے پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی اور فراہم کردہ شواہد کو قابل اعتبار اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے مطابق تسلیم کیا۔

اطلاعات کے مطابق ثالث اب افغان طالبان کے وفد سے پاکستانی مطالبات پر بات کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 25 سے 28 اکتوبر تک استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

اس وقت پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردانہ حملوں کے خاتمے کے لیے قابل تصدیق میکانزم کے قیام کا مطالبہ کیا تھا اور واضح موقف اختیار کیا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کو ختم کیے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں‌:ایئرپورٹس کی نجکاری سےمتعلق بڑی خبر!

یہ بھی پڑھیں