ویب ڈیسک: قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن، فراڈ اور سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف گزشتہ اڑھائی برس کے دوران ریکارڈ کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کر لی ہے۔
نیب کی اداراہ جاتی اصلاحات کے اعدادوشمار سامنے آگئے۔ نیب کے قیام 1999 سے فروری 2023 تک 23 سال میں نیب نے 883.58 ارب روپے کی وصولیاں کیں۔ تاہم گذشتہ ڈھائی سالوں مارچ 2023 سے اکتوبر 2025 کے دوران نیب نے 8397.75 ارب روپے ریکوری کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ گذشتہ ڈھائی سالوں میں ریکوریزکا تناسب بنسبت 23 سالوں کے 10 گنا زیادہ (947 فیصد) ہے۔
گذشتہ ڈھائی سالوں میں نیب کو 15.33 ارب روپے بجٹ ملا، ہر ایک روپے کے بدلے 548 روپے کی ریکوری ہوئی۔ مجموعی طور پر نیب نے 9281.33 ارب روپے کی وصولی کی۔ نیب کو اس سال کے آخر تک مزید 2000 ارب روپے کی ریکوریز متوقع ہیں۔ یہ اصلاحات ترمیمی نیب قانون کی روشنی میں ادارے کی فعالیت اور افادیت بڑھانے کے لیے کی گئیں۔
نیب ہیڈکوارٹر اور ریجنل بیوروز میں شکایات سیل گوادر اور چمن میں سب آفس قائم کیے گئے۔ تحقیق اور تربیت کے لیے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مدعا علیہ (ملزم) کو ہر مرحلے پر سماعت کا حق ہوگا اور فیصلے تک شناخت مخفی رکھی جائے گی۔ پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کے لیے اکاؤنٹیبلٹی فیسیلیٹیشن سیل (احتساب سہولت سیل) قائم کر دیا گیا۔ ای آفس نظام متعارف اور کاروباری طبقے کے لیے بزنس فیسیلیٹیشن سیل قائم کر دیا گیا۔ گواہوں کے بیانات الیکٹرانک طریقے سے ریکارڈ اور مالی شواہد کا تجزیہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے ہوگا۔ کیسز میں غلطیوں یا کمی کو دور کرنے کے لیے ہائی لیول کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔
اصلاحات کی وجہ سے ایک مہینے کے عرصے میں ابتدائی شکایات کی تعداد 2338 سے 1639 ہو گئیں۔ لینڈ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے8 ہزار ارب روپےمالیتی 4.53 ملین ایکڑ سرکاری زمین بازیاب کرائی گئی۔ پونزی اسکیمز اور ہاؤسنگ فراڈ کے متاثرین کو 124.86 ارب روپے واپس کیے گئے۔ 118 ارب روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثوں پر مشتمل منی لانڈرنگ کے 21 بڑے مقدمات زیر تفتیش ہیں۔ انسداد بدعنوانی میں بین الاقوامی تعاون کے لے مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں دستخط کی گئیں۔
مزید پڑھیں:تیسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ


