Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

پاکستانی اقدامات سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ تباہی کا شکار

اسلام آباد (رضوان عباسی)پاکستان کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات اور بارڈر کی جزوی بندش نے افغانستان کی تجارت پر گہرا اثر ڈال دیا ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق، اکتوبر 2025 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں ماہانہ بنیادوں پر 79 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ سالانہ بنیادوں پر اکتوبر میں اس کی مقدار 78 فیصد کم ہوئی۔

رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی 10 فیصد کمی رپورٹ کی گئی ہے۔ جولائی تا اکتوبر 2025 کے دوران افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم 33 کروڑ 66 لاکھ ڈالرز رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 37 کروڑ 21 لاکھ ڈالرز تھا۔ اکتوبر 2025 میں صرف 2 کروڑ 26 لاکھ ڈالرز کی ٹرانزٹ ہوئی، جبکہ اکتوبر 2024 میں یہ حجم 10 کروڑ 24 لاکھ ڈالرز تھا۔

ستمبر 2025 میں مجموعی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ 10 کروڑ 82 لاکھ ڈالرز رہی۔ تجارتی ذرائع کے مطابق، گذشتہ دو مالی سالوں کے دوران افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں مسلسل کمی دیکھی گئی، اور پچھلے دو سالوں میں پاکستان کے راستے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ 6 ارب 7 کروڑ ڈالرز کم ہو چکی ہے۔

پاکستان کی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات اور سرحدی کنٹرول افغان تجارتی حجم پر براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں، اور یہ صورتحال دونوں ممالک کی معیشت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ،ہوٹل سیل

یہ بھی پڑھیں