اسلام آباد (اوصاف نیوز) چیئرمین ایف بی آر نے بیرون ملک سے لائے گئے موبائل فون پر ٹیکس سے متعلق اہم بیان دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد ٹیکسز اور متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کی درخواست پر بھی غور کیا گیا۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 95 فیصد موبائل فون مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں جب کہ درآمدی موبائل فونز پر پہلے ہی ٹیکس عائد ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آئی فون کے نئے ماڈلز پر مارکیٹ میں 150,000 روپے تک کا پریمیم وصول کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ جو شخص آئی فون پر ڈیڑھ لاکھ روپے دے سکتا ہے وہ ٹیکس کیوں نہیں دے سکتا؟ یہ مسئلہ صرف 5% لوگوں کے لیے ہے جو مہنگے امپورٹڈ فون استعمال کرتے ہیں۔
راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکسز سے متعلق جامع رپورٹ مارچ تک پارلیمنٹ میں پیش کر دی جائے گی اور یہی رپورٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے بھی رکھی جائے گی۔
مزید پڑھیں:قائم مقام چیئرمین پیمرا اور الفلاح ایسٹ مینجمنٹ کے سی ای او کی خصوصی ملاقات


