Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب لینڈ پروٹیکشن آرڈیننس سے متعلق اہم فیصلہ

لاہور ( اوصاف نیوز) لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عبوری حکم نامے کے ذریعے پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف اممو ایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے تحت تمام کارروائی معطل کر دی۔

مذکورہ آرڈیننس کے تحت جائیداد کے تنازعات کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے یہ حکم پیر کو عابدہ پروین اور دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔

ان درخواستوں میں آرڈیننس کے تحت جائیداد سے متعلق کیے گئے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے نئے قانون کے تحت جائیدادوں پر قبضے سے متعلق کیے گئے فیصلوں کو بھی معطل کردیا۔

’یہ قانون برقرار رہا تو جاتی عمرہ بھی آدھے گھنٹے میں خالی ہو سکتا ہے‘

چیف جسٹس نے قانون پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ حکومت کو بتایا جائے کہ یہ قانون برقرار رہا تو جاتی عمرہ بھی آدھے گھنٹے میں خالی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ لوگ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ جب سول عدالت میں معاملہ زیرسماعت ہو تو ریونیو افسر جائیداد کا قبضہ کیسے منتقل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون نے سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو کمزور کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سب کچھ انتظامیہ پر چھوڑ دیا گیا تو وہ آئین کو بھی معطل کر دیں گے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر ڈپٹی کمشنر اس قانون کے تحت کسی شخص کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دیتا ہے تو متاثرہ شخص کو اپیل کا حق بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون ہائی کورٹ کو ایسے معاملات میں حکم امتناعی جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

سماعت کے دوران پنجاب کے چیف سیکرٹری اور دیگر سرکاری افسران عدالت میں موجود تھے تاہم ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پیش نہ ہو سکے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ بیمار ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں خود بیمار ہوں اور بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا ہے پھر بھی عدالت میں سماعت کر رہے ہیں۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے کہا کہ معاملے پر مزید کارروائی کے لیے فل بنچ تشکیل دیا جائے گا اور سماعت ملتوی کر دی گئی۔

دریں اثنا، ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق، پنجاب حکومت کے ایک لا افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبائی حکومت عبوری حکم نامے کو اپیل کے ذریعے سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ مقدمہ قانونی سوال پر مشتمل ہے اس لیے حکومت وفاقی آئینی عدالت سے بھی رجوع کر سکتی ہے لیکن حکم امتناعی کے خلاف فل بنچ سے ریلیف ملنے کے امکانات کم ہیں۔

واضح رہے کہ اس آرڈیننس کی منظوری وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 31 اکتوبر کو دی تھی جس کے تحت زمینی تنازعات 90 روز میں حل کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔

اس آرڈیننس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت قائم ہونے والی نئی فورس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔

انہوں نے اس موقع پر یہ بھی ریمارکس دیئے کہ پٹواری اور اسسٹنٹ کمشنر جج بننے کے خواہشمند ہیں اور انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب سپریم کورٹ میں معاملہ زیر سماعت ہے تو پٹواریوں کو نوٹس لینے کا اختیار کیسے ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں‌:بینظیر بھٹو کی برسی پر27دسمبرکوسندھ میں عام تعطیل کا اعلان

یہ بھی پڑھیں