اسلام آباد (اوصاف نیوز) سابق رہنما پاکستان تحریک انصاف محمود مولوی نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی عمل مزاحمت کے بجائے مفاہمت سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے اور سینئر سیاسی شخصیات بھی بات چیت کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے بغیر مسائل کا کوئی حل ممکن نہیں اور قیادت کے واضح فیصلوں کے بغیر سیاسی سمت کا تعین نہیں ہو سکتا۔
اے بی این کے پروگرام سوال؟ سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے محمود مولوی نے کہا کہ چیئرمین شپ سے متعلق ناموں کی تبدیلی کو مائنس ون سے جوڑنا درست نہیں۔ کسی کو چیئرمین بنانے کا مطلب پارٹی کو ختم کرنا نہیں ہوتا۔ انہوں نے سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل کے لیے حکومتوں کو بڑا پن دکھانے پر زور دیا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی باضابطہ دعوت دی جا چکی ہے، تاہم پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ٹریک ریکارڈ سب کے سامنے ہے اور غیر سنجیدہ شرائط پر مذاکرات ممکن نہیں۔
اختیار ولی خان نے واضح کیا کہ حکومت بلیک میلنگ کی بنیاد پر کوئی بات تسلیم نہیں کرے گی، مذاکرات اصولوں پر ہوتے ہیں، دھرنوں یا دباؤ پر نہیں۔
ادھر رکن قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ پارٹی اپنے اصولی مؤقف اور بنیادی نظریات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کی رائے اور مشاورت کے بغیر کوئی سیاسی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔ علی محمد خان کے مطابق اگر عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے تو اسے مسترد نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علامہ راجہ ناصر عباس آئین اور قانون کے مضبوط حامی ہیں اور قومی کانفرنس اور تحریک تحفظ پاکستان بات چیت اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حل اگر سیاسی طریقے سے نکلتا ہے تو وہی قابل قبول ہوگا۔
مزید پڑھیں:ڈھاکہ حملہ، سابق طالب علم رہنما جاں بحق


