اسلام آباد( اے بی این نیوز)رہنما پی ٹی آئی اقبال آفریدی نے کہا کہ مذاکرات کا واحد حل ہے کہ جہاں بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے جس کے لیے بات چیت اور مذاکرات وہ واحد راستہ ہے جس سےحل نکالا جاسکتا ہے جبکہ ملک میں حکومت ،وزراءاور گورنروں کی طرف سے جو بیانیہ دیا جارہا ہے کہ سندھ گورنر کی طرف سے بیان آجاتا ہے تمام وزراء روزانہ لگے رہتے ہیں تو مجھے بتائیں ایسے ماحول میں جویہ خودبنارہے ہیں کہ مذاکرات نہ ہوں تاکہ بیان بازی اور مشتعل ہوں تو ایسے حالات میں مذاکرات کے لیے طریقہ کار بنایا جاتا ہے جو وزراء اور اسٹیٹ میں بیٹھے انہیں ایسے بیانات نہیں دینگے چاہیے ۔
اے بی این نیوز کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئے اقبال آفریدی نے کہا کہ ہماری طرف سے بیان بازی جو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے خلاف لگ جاتے ہیں،میری رائے یہ ہے کہ مذاکرات کے لیےسب سے ضروری بات وہ حکومت یا اپوزیشن کی طرف سے ہووہ تمام پارٹی کے ممبران وہاں پے پارلیمنٹرین ایک پیج پر مذاکرات کے لیے ایک ہی بیانیہ جاری کرے تاکہ دوسرا بھی اسے سنجیدگی سے سوچے ، انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ مذاکرات کے لیے کوئی حکومتی پارٹی یا اپوزیشن وہ اپنے میرٹ سے پیچھے ہٹتی ہے توتب ہی مذاکرات کا راستہ بند ہوتا ہے ۔
رہنما پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ہم توعمران خان کے میرٹ سے زرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں اب بھی ہمارا ڈیمانڈ وہی ہے اس ملک میں حقیقی آزادی آئین و قانون کی حکمرانی ہو جو بالکل درست ہے ۔
دوسری جانب ،وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے کہا کہ ہم نے تو مذاکرات کی پیشکش نہیں کی وہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کی انہوں نے کہا کہ آپ تو مذاکرات کی بات آج کر رہے ہیں اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف اوررانا ثناء اللہ بھی کر چکے ہیں انہوں نے حوصلہ افزائی کی لیکن اس دفعہ عمران خان کو جب 17سال کی سزا ہوئی تو اس کے بعداپوزیشن کا جو اجلاس ہوا اس کا مسودہ سامنے آیاکہ کہاں گیا ہے کہ مذاکرات ہونی چاہیے مختلف ذرائع سے اس کے بعد وزیراعظم کا بیان سامنے آیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ بات حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم انہیں نیچے لگا رہے ہیں ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ہونے بھی چاہیے لیکن سہی بات یہ ہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی مذاکرات سے بھاگتی رہی ہے جنہوں نے پہلی دفعہ 2024میں پہلی کمیٹی بنائی تھی رانا ثناء اللہ اور عرفان صدیقی کی سربراہی میں تب بھی مذاکرات کے لیے بھاگ گئے تھے اور اس کے بعد وزیراعظم نے کہاسپیکر اسمبلی نے کمیٹی بنا دی کہ میں بیچ میں آجاتا ہے تو اس مرتبہ انہیں اندازہ ہوا کہ ہمارے جرائم لمبے میں ان سے نکلنانظر نہیں آرہا تبھی انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی اور اس طرح کے مطالبات آپ نہیں رکھیں گے ۔
مزید پڑھیں:رونالڈو نے بڑی بات کہہ دی ، ویڈیو وائرل


