اسلام آباد (اوصاف نیوز)رکن قومی اسمبلی بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا ہے کہ آج عمران خان کے ساتھ ساتھ پوری پاکستان تحریک انصاف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ دہشت گردی کو کسی سیاسی جماعت سے جوڑنا زیادتی اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور پھیلتا ہوا چیلنج ہے، جس کا خیبر پختونخوا کئی دہائیوں سے سامنا کر رہا ہے۔
اے بی این نیوز کے پروگرام “سوال سے آگے” میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ افغانستان میں امریکا نے طالبان سے معاہدہ کیا اور خطے میں تقریباً 7 ارب ڈالر کا جدید اسلحہ چھوڑا گیا، جو آج پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان جدید ہتھیاروں کے ذریعے فوج اور سویلین آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم کے پی حکومت اپنی عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر کے بعد بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں۔ بیرسٹر عمیر نیازی کے مطابق جبری نقل مکانی سے تعلیم، روزگار اور سماجی نظام متاثر ہوتا ہے، اس لیے دہشت گردی کو صرف موجودہ تناظر میں دیکھنا تاریخی ناانصافی ہوگی، کیونکہ اس مسئلے کی جڑیں ماضی کی پالیسیوں میں موجود ہیں۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو یکساں طور پر مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں، کیونکہ ہر جماعت کا نقطہ نظر تاریخی اور زمینی حقائق سے جڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو عوام یا ریاست سے کوئی سروکار نہیں، اگر انہیں عوام کی پرواہ ہوتی تو تشدد کب کا رک چکا ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پہلے بھی جاری تھے اور آج بھی ہیں، جبکہ ریاست کا اولین فرض عوام کا تحفظ ہے۔
بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تاریخ، حال اور زمینی حقائق کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ دہشت گردی کے اندرونی عوامل، مقامی سہولت کار، فنڈنگ چینلز اور منی ٹریل پر کھل کر بات نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اور بھارت کو مورد الزام ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے خدشات کے باوجود ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے اور سویلین حکومت کی کمزور کارکردگی سے سیکیورٹی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔
بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ بلیم گیم سے مسائل حل نہیں ہوں گے اور ٹی وی کے ذریعے الزام تراشی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق کو کے پی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، اپیکس کمیٹی میں کے پی حکومت کی تجاویز کو سنا جانا چاہیے اور ملکی سالمیت و سلامتی کے ہر اقدام کی حمایت کی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ ہے، سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی سے جوڑنا مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، تاہم پارٹی کو اپنے صوبے میں مثبت عملی اقدامات لینے اور اسمبلی و سینیٹ میں اپنا کردار مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، رکن قومی مذاکراتی کمیٹی محمود مولوی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی باضابطہ طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی مذاکراتی کمیٹی بہتری کی نیت سے تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ معاملات میں مثبت پیش رفت ممکن ہو سکے۔
انہوںنے کہا کہ اس وقت نہ اسٹیبلشمنٹ بات کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی حکومت، تاہم کمیٹی اپنی طرف سے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابل اور تجربہ کار سیاستدانوں کو بھی مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، کیونکہ مقصد سیاسی مسائل کا سنجیدہ اور پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔
رکن قومی مذاکراتی کمیٹی نے زور دیا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا اور اختلافات کا حل سیاسی فورمز پر ہی نکالا جانا چاہیے۔ محمود مولوی نے کہا کہ فوج کے سیاست سے دور رہنے کے مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا گیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں گھسیٹنا ناقابل قبول ہے۔
مولوی محمود نے کہا کہ ذاتی مفادات کے لیے اداروں کو استعمال کرنا بند کیا جانا چاہیے، کیونکہ نیشنل ڈائیلاگ ہی موجودہ سیاسی ڈیڈلاک توڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ملک کو تصادم نہیں بلکہ سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:تمام سیاسی جماعتوں کو نیشنل ڈائیلاگ میں شامل ہونا چاہیے،فواد چودھری


