اسلام آباد (اوصاف نیوز) کےالیکٹرک کے ترجمان عمران رانا نے کہا ہے کہ بجلی کے کھمبوں پر کیبل یا ٹیلی کام لائنوں کی غیر مجاز تنصیب عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
ترجمان کے مطابق نیپرا قوانین (7.18.66) کے تحت کسی بھی ادارے کو بجلی کے انفراسٹرکچر کے استعمال کی اجازت حاصل نہیں، جب تک باقاعدہ منظوری نہ دی جائے۔
کے-الیکٹرک کے ترجمان نے مزید بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے کیس نمبر سی پی ڈی-6386 کے فیصلے کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ پاور اتھارٹی (PTAPA) اور کیبل آپریٹرز کےالیکٹرک کے بجلی کے کھمبوں کا استعمال نہیں کر سکتے۔
بجلی کے کھمبوں پر کیبل یا ٹیلی کام لائنوں کی غیر مجاز تنصیب عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ترجمان کے-الیکٹرک
نیپرا قوانین (7.18.66) کے تحت کسی بھی ادارے کو بجلی کا انفراسٹرکچر استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ ترجمان کے-الیکٹرک
سندھ ہائی کورٹ سی پی ڈی-6386 کے فیصلے کے مطابق PTAPA…
— Imran Rana, Spokesperson, K-Electric (@imranrana21) January 15, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ کےالیکٹرک کے بجلی کے کھمبے نیپرا کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور کسی بھی تیسرے فریق کو ان پر غیر قانونی تنصیب کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ غیر مجاز تنصیبات نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے اس عمل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:کارگو طیارہ کنٹینر سے ٹکرا گیا، انجن کو شدید نقصان


