Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پارلیمانی وفد کا سرکاری خرچ میں‌روضۂ رسول ﷺحاضری کے معاملے پر سفارشات سامنے آگئی

اسلام آباد (رضوان عباسی)پارلیمانی وفد کے سرکاری خرچ پر روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی سفارشات سامنے آ گئی ہیں۔ قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر مبنی دستاویز روزنامہ اوصاف نے حاصل کر لی ہے۔

دستاویز کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے پارلیمانی وفد کی روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے لیے متعدد سفارشات مرتب کر کے وزارت مذہبی امور کو ارسال کر دی ہیں، جنہیں حتمی منظوری کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا جائے گا۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی وفد کے ہوائی ٹکٹوں کے اخراجات قومی اسمبلی برداشت کرے گی، جبکہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں کھانے پینے کے اخراجات بھی سرکاری خرچ پر ادا کیے جائیں گے۔ وفد کے لیے ہوٹل یا سرکاری رہائش گاہوں میں قیام کا انتظام کیا جائے گا۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پارلیمانی وفد کی معاونت کے لیے ایک پروٹوکول افسر تعینات کیا جائے، جبکہ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے سیکرٹری کو بھی وفد میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح پارلیمنٹ ہاؤس کی جامع مسجد کے خطیب کو بطور گائیڈ وفد کا حصہ بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اور وزارت مذہبی امور ہر سال محرم کے پہلے ہفتے میں پارلیمانی وفد کے اراکین نامزد کریں گے، جبکہ اسپیکر ہر پارلیمانی جماعت سے کم از کم ایک رکن کی نامزدگی یقینی بنائیں گے۔ وفد میں ترجیحی بنیادوں پر قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اراکین کو شامل کیا جائے گا۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی وفد ہر سال ربیع الاول کے دوسرے ہفتے میں روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دے گا اور پاکستانی عوام کی جانب سے درود و سلام پیش کرے گا۔ وفد سعودی عرب میں سات روز قیام کرے گا اور اسے طبی سہولیات بھی سرکاری خرچ پر فراہم کی جائیں گی۔

مزید کہا گیا ہے کہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں رہائش اور ٹرانسپورٹ کا انتظام ڈائریکٹوریٹ جنرل حج جدہ کرے گا، جبکہ قومی اسمبلی کا میڈیا ونگ پارلیمانی وفد کے دورے کی میڈیا کوریج کرے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ سفارشات قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی چار رکنی ذیلی کمیٹی نے مرتب کیں، جنہیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا۔ ذیلی کمیٹی رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی، جبکہ آسیہ ناز تنولی، ثمینہ خالد گھرکی اور سید سمیع اللہ اس کے ارکان تھے۔
مزید پڑھیں‌:ملک بھر کے موسم کی تازہ ترین صورتحال جانیے

یہ بھی پڑھیں