Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

تیل قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ، نئی قیمتوں نے سب کو چونکا دیا

نیویارک(نیوز ڈیسک)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز نمایاں اضافے نے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں نئی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 86 سے بڑھ کر تقریباً 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 80 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر چکا ہے گزشتہ تین دنوں کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 3 سے 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث برینٹ تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ سپلائی سے متعلق خدشات مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تشویش کا نتیجہ ہے عالمی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف توانائی بلکہ مالیاتی منڈیوں میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے۔

پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل بڑھ سکتا ہے

اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل 85 سے 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر برقرار رہتا ہے تو آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں پاکستان میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم حتمی اضافہ عالمی قیمتوں روپے کی قدر فریٹ چارجز انشورنس اخراجات درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس و لیوی پالیسی پر منحصر ہوگا۔

موجودہ رجحان برقرار رہنے کی صورت میں بعض توانائی ماہرین کے اندازوں کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 5 سے 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے تاہم یہ صرف مارکیٹ کے موجودہ رجحانات پر مبنی تخمینہ ہے اور حتمی قیمت کا فیصلہ حکومت اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر کرے گی۔

اس کے علاوہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ایک نیا طریقہ کار متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت قیمتوں کے حتمی تعین میں حکومت کا اپنا کردار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

مجوزہ نظام کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ہر رات پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے کی واحد ذمہ دار ہوگی اور یہ تبدیل شدہ قیمتیں روزانہ رات 12 بجے سے لاگو ہوں گی۔

اگر خام تیل کی قیمتوں میں یہی رفتار برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداواری لاگت، صنعتی شعبے زرعی اخراجات اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ مال برداری کے کرایوں میں اضافے سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لینے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔پاکستان میں ایرانی ریال کی قیمت تبدیل، تازہ ریٹس جاری

یہ بھی پڑھیں