Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

عدالت نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا

گوجرانوالہ(نیوز ڈیسک)گوجرانوالہ کی مقامی عدالت نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو متنازع تقریر پر 28 جولائی کو طلب کر لیا۔

مولانا فضل الرحمان کیخلاف متنازع تقریر پر اندراج مقدمہ کی درخواست کی سماعت ہوئی، درخواست میں مولانا فضل الرحمان کیخلاف نقص امن کا الزام عائد کیا گیا۔

ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل نے مولانا فضل الرحمان کو 28 جولائی کو طلب کر لیا ، عدالت نے پولیس کو بھی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

واضح رہے مولانا فضل الرحمان نے قصور میں کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ فوجی اہلکار ملک کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں اور انہیں اس خدمت کے عوض تنخواہ بھی ملتی ہے ، اس بیان کے بعد مولانا فضل الرحمن شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمن پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جے یو آئی سربراہ کے بیان کو اخلاق کے تقاضوں اور اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ “شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔”

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا پر کسی بھی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں ہو سکتا۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے جنہوں نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ہم جوانوں اور افسروں کی لازوال قربانیوں کے باعث سکون کی نیند سوتے ہیں جو ہر محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی تاریخ کسی سیاسی بیان، طنز یا تمسخر سے نہ مٹ سکتی ہے اور نہ ہی ان عظیم قربانیوں کی قدر کم کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں۔تیل قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ، نئی قیمتوں نے سب کو چونکا دیا

یہ بھی پڑھیں