اسلام آباد (اوصاف نیوز) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے خبردار کیا ہے کہ وادی تیراہ میں غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور حالات بہتری کے بجائے مزید خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ ایک بڑا اور حساس مسئلہ بنتا جا رہا ہے، تاہم بدقسمتی سے اس پر میڈیا میں سنجیدہ بحث کا فقدان ہے۔ جس انداز میں آپریشنز کیے جا رہے ہیں، اس سے مستقبل میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
اے بی این کے پروگرام ’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ 8 فروری کو پاکستان تحریک انصاف کا احتجاج ناگزیر ہو چکا ہے اور یہ احتجاج رات 12 بجے ختم نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر اس صورتحال کو درست انداز میں ہینڈل نہ کیا گیا تو ملک میں پولرائزیشن مزید بڑھ جائے گی اور سیاسی ماحول خراب ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت بات چیت کی طرف صرف اس وقت آئے گی جب ٹمپریچر بہت زیادہ بڑھ جائے گا، تاہم مذاکرات کے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ فواد چودھری کے مطابق حکومت کی جانب سے اب تک کوئی سنجیدہ اقدام سامنے نہیں آیا، جبکہ وادی تیراہ کے معاملے سے ملک میں تقسیم اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے جو ریاست اور سیاسی جماعتوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مسائل کا واحد حل مذاکرات اور بات چیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن اپنی بنیادی سیاسی پوزیشن پر قائم ہیں اور وہ اپنے سیاسی مفادات قربان نہیں کر سکتے۔
فواد چودھری نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن دونوں یوم سیاہ منا رہی ہیں، جو پاکستان کے لیے بدقسمتی اور نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت آپریشنز اور متعلقہ بیانیے کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے اور مجموعی طور پر وفاقی حکومت کا کردار کمزور دکھائی دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں:انتشار اور دباؤ کی سیاست ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے،شمائلہ رانا


