پشاور (اوصاف نیوز) پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے پولیس ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت پولیس میں تمام بھرتیاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مرضی سے مشروط کی گئی تھیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے اس ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سنایا۔
آج جمعہ کو پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ جاری کیا جس میں اس نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے بنائے گئے خیبر پختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تقرریوں کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا آئین کے منافی ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا اختیار چھیننا غیر قانونی ہے۔
اس سے پولیس کے کمانڈ سٹرکچر اور نظم و ضبط کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
ترمیمی ایکٹ پولیس کی فعال خود مختاری کو ختم کرتا ہے اور ادارے کو سیاسی دباؤ کا شکار بناتا ہے جو کہ آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔
آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کی نگرانی صرف پالیسی رہنمائی تک محدود ہونی چاہیے۔
تبادلے اور تعیناتیاں پولیس چیف، یعنی آئی جی کے کنٹرول میں ہونی چاہئیں، تاکہ کمانڈ مربوط رہے۔
ایک غیر سیاسی اور عملی طور پر خود مختار پولیس آئینی تقاضا ہے۔ پولیس کی خود مختاری بنیادی حقوق کے تحفظ، منصفانہ ٹرائل اور قانون کے سامنے برابری کے لیے ناگزیر ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا عمومی اختیار صرف پالیسی معاملات تک محدود ہے، افسران کی تقرری یا تبادلے تک نہیں۔
آئی جی کو بائی پاس کرکے فیلڈ کمانڈرز کو کنٹرول دینا قانون نافذ کرنے والے پورے نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔
قانون کے نفاذ کی حتمی ذمہ داری پولیس چیف کی ہے اور وہ قانون کے سامنے جوابدہ ہے۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخواسے افسوسناک خبر آگئی، جانی نقصان کی اطلاعات


