اسلام آباد(اوصاف نیوز) حکومتِ پاکستان نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیا اختیاری ملٹی ٹیرف نظام متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس مجوزہ نظام کا مقصد صنعتوں کو سستی اور متوازن بجلی فراہم کرنا اور توانائی کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کے تحت صنعتی صارفین کو ٹائم آف یوز (ToU) کے اصول پر مختلف اوقات میں مختلف نرخوں پر بجلی حاصل کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس اقدام سے صنعتوں کو آف پیک اوقات میں بجلی استعمال کرنے کی ترغیب ملے گی، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ بجلی کے نظام پر دباؤ بھی کم ہوگا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت فکسڈ چارجز زیادہ سے زیادہ طلب (Maximum Demand) کی بنیاد پر مقرر کیے جائیں گے، جس سے بجلی کے استعمال میں توازن پیدا ہوگا اور پیک اوقات میں غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے گا۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس اقدام سے ملک میں پیک ڈیمانڈ کم ہونے اور بجلی کی مجموعی ترسیل کے نظام پر دباؤ میں کمی آنے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی سستی بجلی کی دستیابی سے صنعتی پیداوار میں اضافہ اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھنے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ اس مجوزہ ٹیرف نظام کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔ اس سلسلے میں صنعتی صارفین، چیمبرز آف کامرس اور دیگر متعلقہ اداروں سے رائے لی جائے گی۔ پہلی آن لائن مشاورتی کانفرنس 26 مارچ کو منعقد کی جائے گی۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات نہ صرف بجلی کے مؤثر استعمال کو فروغ دیں گی بلکہ طویل مدتی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ نیا ٹیرف نظام توانائی بچت، لاگت میں کمی اور صنعتی شعبے کی بہتری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے سبب ایندھن بحران شدت اختیار کر گیا: فلپائن میں توانائی ایمرجنسی نافذ


