لاہور (نیوز ڈیسک) حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے پیش نظر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ اب پیٹرول کی نئی قیمت 458.40 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 187 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ ڈیزل پر 100 روپے سے زائد لیوی بھی وصول کی جارہی ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین چوہدری حسیب انور نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سبسڈی میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس سبسڈی سے کتنے ایکڑ کسان مستفید ہوں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حکومت نے 1500 روپے سبسڈی کا اعلان کیا ہے جس سے کسان متاثر نہیں ہوگا۔ ڈیزل کی قیمت میں 187 روپے کا اضافہ ہوا، اس پر 100 روپے سے زائد لیوی لگائی جا رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ سبسڈی ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری تمام کسان تنظیموں سے ملاقاتیں جاری ہیں، جلد لاہور کی طرف کسانوں کے مارچ کا اعلان کریں گے۔ اس بار پاکستان بھر سے کسان لاہور آئیں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت یہ اضافہ واپس لے۔
چوہدری حسیب انور نے مزید کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔ آئندہ دس سے پندرہ روز میں گندم کی کٹائی شروع ہونے جارہی ہے جبکہ حکومت گندم کا ریٹ 3500 روپے فی من مقرر کررہی ہے۔ ایک ایکڑ میں فصل تیار ہونے تک کسان کو 50 لیٹر ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت صرف 1500 روپے سبسڈی دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی وجہ سے آلو کی فصل میں بھی کسانوں کا نقصان ہوا، اب حکومت نے گندم پر پیٹرول بم گرا دیا ہے اور ساتھ ہی گندم کا ریٹ بھی نہ ہونے کے برابر مقرر کیا ہے۔ یہ حکومت کسان مخالف ہے۔ تمام کسان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے تاکہ غریب روٹی کھا سکیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے۔
زرعی ماہرین اور معاشی ماہرین نے بھی کسان اتحاد کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے کاشتکاری کی لاگت 30 سے 40 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ ایک زرعی ماہر کا کہنا ہے کہ چھوٹے کسانوں کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ کی سبسڈی صرف کاغذی ریلیف ہے۔ گندم کی ایک ایکڑ فصل کے لیے 50 لیٹر ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے جس کی قیمت اب ہزاروں روپے تک بڑھ گئی ہے۔ 3500 روپے فی من گندم کی قیمت بھی پیداواری لاگت کو پورا نہیں کرتی۔
معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا جس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا اور 65 فیصد آبادی جس کا انحصار زراعت پر ہے شدید متاثر ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ڈیزل پر مستقل سبسڈی فراہم نہ کی گئی تو ربیع کی فصل متاثر ہوگی اور ملک میں غذائی عدم تحفظ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
ماہرین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کسانوں کے مارچ سے پہلے مذاکرات کرے اور صورتحال کو سنبھالے ورنہ زرعی شعبے کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ کے جنرل سیکرٹری اور رکن پنجاب اسمبلی میاں اعجاز شفیع نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرول مہنگا کر کے کسان کو زندہ درگور کر دیا ہے۔
میاں اعجاز شفیع نے کہا کہ ‘پٹرول مہنگا کر کے حکومت نے کسان کو زندہ دفن کر دیا ہے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘اتنے مہنگے ڈیزل سے گندم کی کٹائی کیسے ہوگی؟’
انہوں نے کہا کہ ‘مہنگائی کا نہ رکنے والا طوفان سفید پوش طبقے اور کسانوں سمیت سب کو ڈبو دے گا۔’ میاں اعجاز شفیع نے خبردار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کے لیے روزگار یا سفر کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں:ابھیشیک شرما پر آئی پی ایل نے بڑا ایکشن لیا، وجہ جانیں
