ایران نے پاکستان پر مکمل انحصار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات (UAE) کے ساتھ اپنا تجارتی ناطہ توڑ کر گوادر بندرگاہ کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا ہے
۔
ذرائع کے مطابق، ایران اب تک اپنی تیل کی تجارت اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے یو اے ای کے جبل علی پورٹ پر انحصار کرتا تھا، لیکن خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایران نے اپنے تمام تجارتی آپریشنز وہاں سے سمیٹ لیے ہیں
۔ اب ایران اپنی درآمدات اور برآمدات کے لیے پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو استعمال کرے گا جو کہ گہرے پانیوں کی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے بڑے بحری جہازوں کے لیے انتہائی موزوں ہے
۔
اس بڑی تبدیلی کے پاکستان کی معیشت پر درج ذیل مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے:
سستا تیل اور بارٹر ٹریڈ:
پاکستان اور ایران کے درمیان بارٹر ٹریڈ (اشیاء کے بدلے اشیاء) کا نظام وضع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پاکستان ایران کو گندم اور چاول فراہم کرے گا اور بدلے میں ایران سے سستا تیل حاصل کرے گا
۔ اس سے پاکستان کے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی
۔
گوادر پورٹ کی سرگرمیوں میں اضافہ: گوادر پورٹ اب مکمل طور پر فعال ہونے جا رہا ہے، جس سے پاکستان کو برتھنگ فیس، لوڈنگ ان لوڈنگ کے اخراجات اور پورٹ فیس کی مد میں کثیر آمدنی ہوگی
روزگار کے نئے مواقع:
اس تجارتی سرگرمی سے بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں ملازمتوں کے نئے دروازے کھلیں گے
ٹول ٹیکس اور راہداری کا فائدہ: ایران کا مال پاکستان کی سڑکوں کے ذریعے چین اور دیگر ممالک تک پہنچے گا، جس سے پاکستان کو بھاری ٹول ٹیکس حاصل ہوگا
۔ پاکستان نے ایسی سڑکیں تعمیر کی ہیں جن سے ایران کا سفر 18 گھنٹے سے کم ہو کر صرف 3 گھنٹے رہ گیا ہے
بھارت کے لیے بڑا دھچکا:
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے یہ فیصلہ بھارت کی جانب سے چابہار بندرگاہ میں مبینہ سازشوں کے بعد کیا ہے
۔ ایران کو اب احساس ہوا ہے کہ بھارت دوستی کے لبادے میں اس کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا تھا، جس کے بعد ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک گر گئیں،مارکیٹ میں ہلچل

