Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ہر پاکستانی 3 لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد کا مقروض، نئی رپورٹ جاری

اسلام آباد: فی کس قرض میں گزشتہ مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ہر پاکستانی شہری پر اوسط قرض 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق عوامی قرضوں میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2023-24 میں ہر پاکستانی پر اوسط قرض 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہو گیا۔ اس طرح صرف ایک سال کے دوران فی فرد قرض میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی عوامی قرض 89.8 کھرب روپے سے بڑھ کر 97.3 کھرب روپے تک جا پہنچا، یعنی ایک سال میں 7.5 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق قرضوں میں اضافے کی بڑی وجہ سودی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کا قرضہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً 76 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ پاکستانی معیشت کا حجم تقریباً 127 کھرب روپے بتایا گیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح ملکی مالیاتی صورتحال پر دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی تقریباً 5 لاکھ 32 ہزار روپے بتائی گئی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک شہری کی سالانہ آمدنی کا بڑا حصہ اس کے حصے کے قرض کے برابر ہو چکا ہے۔

ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر فی کس قرض میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو حکومت کو ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی پروگراموں اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں