اسلام آباد: کھاد سبسڈی کے حوالے سے وفاقی حکومت نے ایک اہم ریلیف پیکج پر غور شروع کر دیا ہے جس کا مقصد کسانوں کو ممکنہ قیمتوں میں اضافے سے بچانا اور ملک بھر میں کھاد کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کھاد ساز کمپنیوں کے ذمہ گیس قیمتوں کے بقایاجات کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کیلئے تقریباً 20 ارب روپے کی سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام سے کھاد کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ کم ہوگا اور مارکیٹ میں یوریا سمیت دیگر ضروری کھادوں کی دستیابی برقرار رہ سکے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ گیس ٹیرف سے متعلق مالی بوجھ نے کھاد ساز صنعت کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ مجوزہ مالی معاونت کے ذریعے ان مسائل کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کو اضافی اخراجات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق حکومت توانائی اور کھاد کے شعبوں میں طویل المدتی اصلاحات پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ پیداوار کے عمل کو مزید مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ گیس نرخوں کے فرق کی ادائیگی سے گیس فراہم کرنے والے اداروں کی مالی صورتحال بھی بہتر ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو کھاد سبسڈی کسانوں کیلئے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوگی، جس سے زرعی لاگت میں اضافے کو محدود رکھنے اور غذائی تحفظ کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
حکومتی حلقوں کے مطابق اس تجویز پر آئندہ بجٹ اور زرعی شعبے سے متعلق پالیسی مشاورت کے دوران مزید غور کیا جائے گا۔


