اسلام آباد: روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں پاکستان کو ایک دیانت دار اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر دیکھتے ہیں جو حقیقی معنوں میں عالمی امن کا خواہاں ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مکمل جنگ بندی کے قیام کیلئے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں مکمل سیز فائر کی پیش رفت ممکن ہو سکے گی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑنے والے دباؤ میں کمی آئے گی۔
سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق پاکستان کا مقصد کسی خفیہ ایجنڈے کے تحت کردار ادا کرنا نہیں بلکہ صرف امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری ایسے فورمز کی محتاج ہے جہاں متحارب فریق ایک دوسرے سے بات چیت کر سکیں۔
انہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کو عالمی مکالمے کا اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جب دنیا مختلف تنازعات کا سامنا کر رہی ہے، ایسے فورمز کاروباری، سیاسی اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
سفیر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تقریباً 22 فیصد تیل و گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اس لیے خطے میں کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کے ساتھ ساتھ کھاد کی سپلائی متاثر ہونے سے مستقبل میں زرعی بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔
پاکستان اور روس کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی رابطے مستحکم ہیں اور اب توجہ کاروباری، ثقافتی اور عوامی روابط بڑھانے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق پاکستان روس کیلئے خوراک، تجارت اور سیاحت کے شعبوں میں اہم شراکت دار بن سکتا ہے، جبکہ روس بھی پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے بین الاقوامی فورمز پر مختلف ممالک کے رہنماؤں اور کاروباری شخصیات کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کے تعاون کیلئے نئی راہیں کھولتی ہیں۔


