Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی(JAAC) پر پابندی کے بعد آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان بحال

مظفرآباد(نیوز ڈیسک) آزاد جموں و کشمیر حکومت نے ایک اہم ترین اقدام کے تحت ‘جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ (JAAC) کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ (ATA) کے تحت کالعدم قرار دے کر اس پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ تنظیم کی جانب سے 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال سے قبل ریاست کی رٹ برقرار رکھنے اور عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے اجرا کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے میں ملوث جے اے اے سی کے 35 سے 40 کلیدی افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، ایکشن کمیٹی کی جانب سے مذاکرات کے تمام راستے بند کرنے اور زیادہ تر مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج اور سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کا راستہ منتخب کرنے پر یہ سخت قدم اٹھایا گیا۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ گروہ امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے، معاشرے میں نفرت پھیلانے اور افراتفری پیدا کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن احتجاج کی آڑ میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف قطعی طور پر زیرو ٹولرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

دوسری جانب، حالیہ کشیدگی اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے برعکس دارالحکومت مظفرآباد سمیت ریاست کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صورتحال بالکل معمول پر ہے۔ تمام تجارتی مراکز، مارکیٹیں اور دکانیں اپنے مقررہ وقت کے مطابق کھلی ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور حکومتی عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ چونکہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے *27 جولائی* کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا جا چکا ہے، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو جمہوری اقدار اور انتخابی عمل کا احترام کرنا چاہیے۔

ایک اعلیٰ انتظامی عہدیدار نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
> “عوامی مسائل اور شکایات کے حل کے لیے جمہوری عمل ہی سب سے بہترین اور آئینی راستہ ہے۔ جو عناصر معاملات کو سڑکوں پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اس احتجاجی سیاست کو ترک کر کے جمہوری عمل کا حصہ بنیں اور اپنے مسائل کا حل بیلٹ بکس اور قانون سازی کے ذریعے تلاش کریں۔”

مزید پڑھیں۔آن لائن بائیک رائیڈرز کا پیٹرول 250 روپے فی لیٹر کرنے کا مطالبہ

یہ بھی پڑھیں