Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

سولر وہیلنگ پالیسی سے سستی بجلی حاصل کرنا آسان ہوگا

اسلام آباد: وفاقی حکومت سولر وہیلنگ پالیسی متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت شہری اور کاروباری ادارے ایک مقام پر پیدا ہونے والی شمسی توانائی کو ملک کے کسی دوسرے مقام پر استعمال کر سکیں گے۔

مجوزہ پالیسی کا مقصد ان افراد اور کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو دیہی علاقوں میں زمین رکھتے ہیں لیکن ان کی رہائش یا کاروبار بڑے شہروں میں واقع ہے جہاں سولر سسٹم لگانا مشکل یا مہنگا ہوتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور کاروباری رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس پالیسی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر عثمان شوکت نے بتایا کہ حکومت ایک ایسا فریم ورک تیار کر رہی ہے جس کے تحت صارفین اپنی زمین پر سولر پینلز نصب کر کے بجلی پیدا کریں گے اور اس کے بدلے انرجی کریڈٹس حاصل کریں گے۔

سولر وہیلنگ پالیسی کے تحت یہ انرجی کریڈٹس ملک کے کسی بھی شہر میں موجود گھر، اپارٹمنٹ، دفتر یا فیکٹری کے بجلی بلوں میں استعمال کیے جا سکیں گے۔ اس طرح شہری علاقوں میں محدود جگہ رکھنے والے افراد بھی شمسی توانائی کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، صنعتی پیداوار سستی ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

عثمان شوکت کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں انرجی وہیلنگ کا نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور پاکستان میں بھی اس کے نفاذ سے قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔

کاروباری حلقوں نے اس پالیسی کو ملکی صنعت، سرمایہ کاری اور معیشت کیلئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں