لاہور: آنے والے مون سون سیزن کے پیش نظر پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں نے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ مون سون تیاریاں مکمل کرنے کیلئے لاہور سمیت مختلف اضلاع میں ہنگامی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
لاہور میں ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں واسا، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، ریسکیو 1122، محکمہ آبپاشی، سول ڈیفنس اور دیگر اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں شہری اور دریائی سیلاب کے خدشات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات، نکاسی آب کے نظام اور ہنگامی ردعمل کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
واسا حکام کے مطابق شہر بھر میں 617 ڈی واٹرنگ سیٹس اور 134 ڈسپوزل اسٹیشنز مکمل طور پر فعال ہیں، جبکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نے بھی 70 اضافی ڈی واٹرنگ سیٹس کو ہائی الرٹ پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مون سون تیاریاں کے تحت ریسکیو 1122 نے آبی ریسکیو اور ہنگامی امدادی منصوبہ پیش کیا جبکہ سول ڈیفنس نے بتایا کہ 139 تربیت یافتہ رضاکار کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے راوی کے کنارے حفاظتی پشتوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور دریا کے اطراف موجود 35 آبادیوں کیلئے خصوصی حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
حکام نے متاثرہ افراد کی فوری امداد کیلئے 65 ریلیف کیمپ بھی مختص کر دیے ہیں۔ دوسری جانب مری اور شمالی علاقوں میں خطرناک آبی مقامات پر احتیاطی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے کے باعث پیدا ہونے والے خطرات پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔



