Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ خواتین کے وراثتی حقوق ریاست کی جانب سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں، جنہیں کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ بی بی آمنہ کیس کی سماعت کے دوران سنایا گیا، جس میں عدالت نے بلوچستان ہائیکورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ کیس میں درخواست گزار نے اپنے بھائیوں کی جانب سے مکمل وراثتی حصہ نہ دیے جانے پر عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ بی بی آمنہ کے والدین کی تمام جائیدادیں سول کورٹ میں پیش کی جائیں، جہاں قانون اور آئین کے مطابق تمام ورثا کے حصص کا تعین کیا جائے گا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کوئی بھی علاقائی رسم و رواج، خاندانی نظام یا روایت خواتین کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنا نہ صرف ملکی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی احکامات کے بھی منافی ہے۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ خواتین کو ان کا جائز حق ہر صورت میں فراہم کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

یہ فیصلہ ملک میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ ایسے کیسز میں قانونی رہنمائی بھی حاصل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں