اسلام آباد: جماعت اسلامی کا احتجاج وفاقی دارالحکومت میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے اور اسے آئندہ تین سال تک برقرار رکھا جائے۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ حالیہ مہنگائی نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کرے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی اسلام آباد کے ے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کو عام شہریوں پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور حکومت پر دباؤ ڈالے گی کہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ قیمتوں کے مقابلے میں 225 روپے فی لیٹر پیٹرول بھی تمام ضروری اخراجات کو پورا کر سکتا ہے۔
نصراللہ رندھاوا نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر خطے کے دیگر ممالک نسبتاً کم قیمت پر ایندھن فراہم کر سکتے ہیں تو پاکستان میں عوام کو سستا پیٹرول کیوں نہیں دیا جا سکتا۔
جماعت اسلامی کا احتجاج اختتام پذیر ہونے سے قبل مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر متعلقہ ٹیکسوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کو مہنگائی سے نجات مل سکے۔



