اسلام آباد (نامہ نگار) مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ حلقہ وسطیٰ باغ سے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر سابق سینئر پارلیمنٹیرین راجہ محمد یاسین خان نے قیادت کے فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
راجہ محمد یاسین خان کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں انہیں پارٹی امیدوار بنانے کی وعدے کی صورت میں یقین دہانی نہ صرف مشتاق منہاس نے کرائی تھی بلکہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، جنرل سیکرٹری چوہدری طارق فاروق، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان، ڈاکٹر نجیب اور دیگر مرکزی رہنماؤں نے بھی اس وعدے کی توثیق کی تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ صرف انفرادی نہیں بلکہ جماعتی سطح پر کیا گیا فیصلہ ہے، جسے پارٹی قائد میاں نواز شریف کی تائید بھی حاصل ہے۔راجہ محمد یاسین خان کے مطابق انہوں نے اسی یقین دہانی اور وعدے کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی، تاہم قیادت نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ان کے بجائے مشتاق منہاس کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا، جس پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے ٹکٹ کے فیصلے کو میرٹ کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد بار آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں اور حلقے میں مضبوط عوامی حمایت رکھتے ہیں۔ راجہ یاسین کا دعویٰ ہے کہ 2023 کے ضمنی انتخاب میں مشتاق منہاس کی انتخابی مہم میں بھی ان کے ووٹ بینک نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
راجہ محمد یاسین خان نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مشتاق منہاس حلقہ وسطیٰ باغ سے کامیابی کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس متعلق سروے کروا کر دیکھ لیا جائے اور پارٹی کے اندرونی طور پر سروے بھی اسی حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے اپیل کی کہ حلقہ وسطیٰ باغ کے ٹکٹ کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے تاکہ پارٹی کے وسیع تر مفاد اور انتخابی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔حلقہ وسطیٰ باغ کے ٹکٹ پر جاری اختلافات نے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے، جبکہ بروقت فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں اس کے پارٹی کی انتخابی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں.
مزید پڑھیں:اپوزیشن نے 9 مئی سے کچھ نہیں سیکھا،بغاوت اور ہتھیاروں کی بات کرتے ہیں ،عظمیٰ بخاری
