کراچی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کی اور جو کچھ ممکن تھا وہ کیا گیا۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ پانڈا بانڈ کا اجرا بھی کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت درمیانی مدت کی ٹیکس پالیسی تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مرتب کرے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر، آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ کرپشن کے خاتمے، ٹیکس نظام کو سادہ بنانے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر اس ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے جہاں باہمی تجارت کے مواقع موجود ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) سے متعلق مشاورت جاری ہے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جدید، شفاف اور مضبوط بینکاری نظام کے فروغ کے لیے اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی شعبے میں جاری اصلاحات سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے جبکہ بینکاری شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اگرچہ مالیاتی شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مزید بہتری کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھا جائے گا۔

