کراچی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار کے خلاف دائر آئینی درخواست کو سندھ ہائیکورٹ نے ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ان پر عائد ٹیکسوں کا تعین حکومت اور پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے مؤقف کا جائزہ لیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاشی، مالیاتی اور ٹیکس سے متعلق پالیسیاں تشکیل دینا حکومت کا آئینی اختیار ہے اور عدالتی مداخلت صرف اسی صورت ممکن ہے جب کسی بنیادی آئینی حق کی واضح خلاف ورزی ثابت ہو۔
عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت مقرر کرنے کے موجودہ طریقہ کار سے اس کے کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ صرف قیمتوں پر عدم اطمینان یا حکومتی پالیسی سے اختلاف آئینی درخواست دائر کرنے کے لیے کافی بنیاد نہیں بن سکتا۔
فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ عوامی مفاد سے متعلق معاشی فیصلوں اور مالیاتی پالیسیوں کی تشکیل حکومت اور منتخب پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے، جبکہ عدالتیں صرف آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے ایسے معاملات کا جائزہ لے سکتی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے یہ اصول مزید مضبوط ہوا ہے کہ معاشی پالیسیوں، ٹیکسوں اور قیمتوں کے تعین جیسے معاملات میں عدالتی مداخلت محدود ہوتی ہے، جب تک کسی بنیادی آئینی حق کی خلاف ورزی واضح طور پر ثابت نہ ہو۔
