Search
Close this search box.
پیر ,20 جولائی ,2026ء

اے آئی مائیکرو ڈرونز، مچھروں کے خاتمے کے لیے نئی امریکی ٹیکنالوجی

واشنگٹن: اے آئی مائیکرو ڈرونز کی مدد سے مچھروں کا خاتمہ اب مستقبل کی حقیقت بن سکتا ہے۔ امریکا کے ایک ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ نے ایسے مصنوعی ذہانت سے لیس ننھے ڈرونز تیار کرنے پر کام شروع کر دیا ہے جو فضا میں اڑتے ہوئے مچھروں اور دیگر حشرات کی شناخت کرکے انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی اسٹارٹ اپ ٹورنیول (Tornyol)، جسے معروف اسٹارٹ اپ پروگرام وائے کومبینیٹر (Y Combinator) کی معاونت حاصل ہے، کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے مچھروں کے خاتمے کی لاگت موجودہ طریقوں کے مقابلے میں 100 گنا تک کم کی جا سکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق مستقبل میں ان مائیکرو ڈرونز کے غول شہری علاقوں میں خودکار انداز میں مچھروں کا تعاقب کریں گے، جس سے کیمیائی اسپرے اور ماحول کو نقصان پہنچانے والے روایتی طریقوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

14 جولائی کو کمپنی کے شریک بانی الیکس توسانٹ نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ایک مائیکرو ڈرون کو محدود ماحول میں فضا میں اڑتے ہوئے ایک کیڑے کو کامیابی سے نشانہ بناتے دکھایا گیا۔ تاہم اس تجربے میں مچھر کے بجائے ایک پتنگا استعمال کیا گیا تھا، اس لیے یہ ٹیکنالوجی ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے۔

کمپنی کا ہدف صرف 40 گرام وزنی ایسے ڈرون تیار کرنا ہے جو اسمارٹ فون جیسے مائیکروفون، الٹراسونک سینسرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر کے ذریعے مچھروں کا سراغ لگا سکیں۔

ان ڈرونز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ الٹراسونک لہریں خارج کرتے ہیں اور واپس آنے والی بازگشت کا تجزیہ کرتے ہیں۔ مچھروں کے پروں کی حرکت سے پیدا ہونے والی مخصوص ڈوپلر آواز کی بنیاد پر یہ انہیں دیگر اڑنے والے حشرات سے الگ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمپنی کے انجینئرز کا دعویٰ ہے کہ مستقبل میں صرف 10 مائیکرو ڈرونز تقریباً ایک مربع کلومیٹر کے علاقے میں مچھروں کی تعداد کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کی عملی افادیت کا اندازہ مزید آزمائشوں اور حقیقی ماحول میں تجربات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں