Search
Close this search box.
پیر ,20 جولائی ,2026ء

رام مندر اسکینڈل، عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بی جے پی دباؤ میں

نئی دہلی: رام مندر اسکینڈل ایک بار پھر بھارتی سیاست کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ رام مندر ٹرسٹ میں عطیات اور مالی معاملات سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات پر اپوزیشن جماعتیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، جبکہ حکمراں جماعت ان الزامات کو محدود نوعیت کی بے ضابطگیاں قرار دے رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں رام مندر میں جمع ہونے والے عطیات اور چندے کی گنتی کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بعض تحقیقات میں چند افراد پر مالی بے ضابطگیوں اور رقم میں خرد برد کے الزامات سامنے آئے، جس کے بعد متعلقہ حکام نے کارروائی شروع کی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں بعض افراد سے نقد رقم بھی برآمد کی گئی، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

رام مندر اسکینڈل کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عطیات کے استعمال اور مالی ریکارڈ سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ چونکہ رام مندر ایک حساس مذہبی اور سیاسی معاملہ رہا ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی مالی بے ضابطگی عوام کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب بی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، تاہم پورے منصوبے یا حکومت کو اس سے جوڑنا درست نہیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ چند افراد تک محدود ہے اور قانون کے مطابق اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں آئندہ انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ اسی وجہ سے اپوزیشن اس معاملے کو سیاسی طور پر مؤثر انداز میں اٹھا رہی ہے، جبکہ حکمراں جماعت عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات شفاف انداز میں مکمل نہ ہوئیں تو یہ معاملہ مستقبل میں بھی بھارتی سیاست میں زیر بحث رہ سکتا ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اسے انتخابی مہم میں استعمال کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں