فنانس بل 2024 کے تحت سینکڑوں درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔درآمدی اشیاء پر 5 فیصد سے 55 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، زندہ مچھلی کی درآمد پر 10 فیصد، منجمد مچھلی پر 35 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔فنانس بل کے تحت درآمدی دودھ، کریم پر 25 فیصد، دہی، مکھن، گری دار میوے پر 20 فیصد، درآمد شدہ قدرتی شہد پر 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔
درآمد شدہ کھجور، انجیر، انناس، امرود اور آم پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح، درآمدی چیری پر 35 فیصد، سیب، لیچی پر 45 فیصد، مکئی پر 30 فیصد۔امپورٹڈ پرفیوم، میک اپ پراڈکٹس، سکن کیئر آئٹمز، بالوں کی دیکھ بھال کی مختلف اشیا پر 55 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی، امپورٹڈ شیونگ کریمز، صابن پر بھی 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔
درآمد شدہ اوور کوٹ، ٹوپی، جیکٹس، ٹراؤزر، مردوں کے لیے شارٹس، امپورٹڈ اوور کوٹ، جیکٹس، ڈریسز، سکرٹس، ٹراؤزر خواتین کے لیے ٹریک سوٹ، رومال، شال، مفلر، ویلز، ٹائی، کمبل کے علاوہ 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔درآمد شدہ واٹر پروف جوتوں، چمڑے کے جوتوں، واش بیسن، باتھ ٹب، بیت الخلاء پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔درآمدی زیورات پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 45 فیصد تک عائد کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ کے بعد پاکستان میں سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ


