Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

پی ٹی آئی کے جلسے میں تشددکی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی

اسلام آباد پولیس نے 8 ستمبر کے جلسے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف سنگجانی تھانے میں درج دہشت گردی کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔دیگر اراکین میں آرگنائزڈ کرائمز یونٹ کے ایس پی، سنگجانی تھانے کے ایس ایچ او اور کیس کے تفتیشی افسر شامل ہیں۔ایس آئی ٹی کو معاملے کی تحقیقات کرنے اور ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، خصوصی ٹیم کے سربراہ ہر 2 دن بعد اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اپ ڈیٹ رپورٹ پیش کریں گے۔پولیس نے جلسے کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا، جن میں چیئرمین گوہر علی خان بھی شامل تھے، تاہم انہیں اگلے روز رہا کر دیا گیا۔تاہم، سادہ لباس میں ملبوس افراد نے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر پناہ لینے والے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔

اس واقعے کے ردعمل میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے وزارت داخلہ کو حکم دیا کہ ایوان کے قوانین اور تقدس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے سے اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاری کی تحقیقات کرے۔خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تحقیقات کے لیے دہشت گردی کا جو کیس دیا گیا ہے، اس میں پاکستان پینل کوڈ کی دیگر دفعات کے علاوہ نئے نافذ کردہ ’پرُ امن اجتماع اور امن عامہ ایکٹ 2024‘ کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور، عامر مغل، بیرسٹر گوہر علی خان، خالد خورشید، شیر افضل مروت، زرتاج گل، فیصل چوہدری، شیخ وقاص اکرم، عمر ایوب، نعیم حیدر پنجوتھہ، عالمگیر، زین قریشی، حامد رضا اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو نامزد کیا گیا ہے۔

دیگر اراکین میں آرگنائزڈ کرائمز یونٹ کے ایس پی، سنگجانی تھانے کے ایس ایچ او اور کیس کے تفتیشی افسر شامل ہیں۔ایس آئی ٹی کو معاملے کی تحقیقات کرنے اور ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، خصوصی ٹیم کے سربراہ ہر 2 دن بعد اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اپ ڈیٹ رپورٹ پیش کریں گے۔

خاتون ووٹر نے تحریک انصاف کی عارضی چیئرپرسن بننے کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

یہ بھی پڑھیں